حکومت ایل پی جی کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے لیے نیا شفاف طریقہ کار متعارف کرا رہی ہے، علی پرویز ملک 

7

اسلام آباد۔3نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت ایل پی جی کی درآمد، قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے لیے نیا شفاف طریقہ کار متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت مستحق صارفین کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہم کرنے کے لیے خصوصی فنڈز قائم کیے جائیں گے جبکہ سرکاری کمپنیاں عالمی مارکیٹ سے بلک بنیادوں پر ایل پی جی درآمد کریں گی۔

منگل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم نے وفاقی وسائل سے 130 ارب روپے فراہم کیے جبکہ صوبوں اور صدر آصف علی زرداری نے بھی اس سلسلے میں مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے ریفائنریز کے ساتھ مل کر اقدامات کیےجس کے بعد عالمی مارکیٹ میں کچھ نرمی آئی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ طلب تقریباً 24 لاکھ ٹن جبکہ روزانہ کھپت 6,500 سے 7,000 ٹن ہے۔ ملک میں مقامی پیداوار تقریباً 2,000 سے 2,500 ٹن یومیہ ہے اور باقی ضرورت درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ ماضی میں اس ضرورت کا بڑا حصہ مغربی سرحد کے راستے آتا رہا ہے جبکہ باقی سپلائی سمندری راستے سے درآمد کی جاتی ہے۔ اینگرو اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایل پی جی ٹرمینلز کے ذریعے درآمدی سپلائی کی جاتی ہے جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 14 ہزار ٹن ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سعودی آرامکو کا کنٹریکٹ پرائس (سی پی) مارچ میں 540 ڈالر فی ٹن تھا جو حالیہ عرصے میں بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہو گیا ہے۔ اوگرا اسی عالمی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل پی جی کی قیمتوں میں ردوبدل کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2016ء کی ایل پی جی پالیسی میں سعودی سی پی اور ایف او بی قیمت کومقامی قیمت کے تعین کی بنیاد بنایا گیا تھاتاہم درآمدات بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچنے کے باوجود اس فارمولے میں بیرون ملک سے ایل پی جی منگوانے کے اخراجات شامل نہیں تھے جس کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں اور غیر قانونی ذرائع سے سپلائی کا رجحان بڑھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سپاٹ مارکیٹ میں سعودی سی پی کے علاوہ 300 سے 400 ڈالر فی ٹن تک پریمیم بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ فریٹ اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد عالمی مارکیٹ سے آنے والی ایل پی جی کی قیمت تقریباً 450 سے 500 روپے فی کلو تک بن سکتی ہے، حکومت قیمتوں کے تعین میں شفافیت کے لیے سعودی آرامکو سی پی، پریمیم، فریٹ اور دیگر اخراجات کی تفصیلات متعلقہ سرکاری کمپنیوں کی ویب سائٹس پر ماہانہ بنیادوں پر جاری کرے گی۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان سٹیٹ آئل، سوئی سدرن کی اپنی ایل پی جی کمپنی اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ سمیت سرکاری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکومتی سطح پر (جی ٹو جی) اور کاروباری سطح پر (بی ٹو بی) معاہدوں کے ذریعے بلک بنیادوں پر ایل پی جی کی خریداری کے سودے کریں۔

 انہوں نے نجی شعبے کو بھی درآمدات کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی نجی درآمد کنندہ سرکاری کمپنیوں سے کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کر سکتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پارکو پرل گیس کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ مقامی ایل پی جی کی تقسیم کے لیے پانچ اور دس ٹن کی مقدار میں نیلامی کی جائے گی اور نیلامی کے نتائج بھی شائع کیے جائیں گے۔ اس عمل کی نگرانی سیکرٹری پٹرولیم، چیئرمین اوگرا اور متعلقہ کمپنیوں کے بورڈز کریں گے جبکہ ایل پی جی اوگرا کے لائسنس یافتہ تقسیم کاروں میں فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مشکل اور دور درازعلاقوں کے لیے ایل پی جی پالیسی کےتحت مختص 10 فیصد کوٹے پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا، سرکاری کمپنیاں مقامی پروڈیوسرز سے یہ کوٹہ حاصل کریں گی اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے مشاورت کے بعد ان اضلاع کا تعین کیا جائے گا جہاں اس سہولت کی ضرورت ہےتاکہ ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نےبتایا کہ نیلامی میں پروڈیوسر کی ایف او بی قیمت سے زائدحاصل ہونے والی رقم پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ اور وَلنریبل پروٹیکشن فنڈ میں منتقل کی جائے گی۔ حکومت وزارت توانائی، صوبوں اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے مستحق صارفین کے لیے اہلیت کا معیار طے کرے گی۔ وزیراعظم کی منظوری سے ایسے صارفین کے لیے رعایتی قیمت مقرر کی جا سکے گی، مثلاً ایل پی جی کی قیمت 300 یا 400 روپے فی کلو مقرر کرنا یا فی کلو 50 روپے کی رعایت دینا، تاکہ مستحق افراد کو کم قیمت پر ایل پی جی فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایل پی جی کی مارکیٹ میں گٹھ جوڑ اورقیمتوں میں مصنوعی اضافے کی روک تھام کے لیے مسابقتی کمیشن اپنا کردار ادا کرے گا جبکہ اوگرالائسنسنگ کے عمل کو مزید شفاف بنائے گا اور ذخیرہ کرنےکی سہولتوں کا آڈٹ بھی کرے گاتاکہ کوئی کمپنی یا ڈیلر منافع خوری کے لیے ایل پی جی ذخیرہ نہ کر سکے۔

 انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارہ سلنڈرز اور بائوزرز کے معیار، حفاظتی اقدامات اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی نگرانی بھی کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ گیس کنکشنز ہیں اور پائپ لائن نیٹ ورک سے باہر رہنے والے صارفین کی بڑی تعداد ایل پی جی استعمال کرتی ہے،سردیوں میں پائپ لائن کے ذریعے گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے حکومت کو مہنگا ایندھن یا ایل این جی خریدنا پڑ سکتی ہے اور ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی محدود بھی کرنا پڑ سکتی ہے تاہم کوشش ہوگی کہ گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں گیس فراہم کی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو مستقبل میں توانائی کے تحفظ کے لیے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، ریفائنریز اور ایل پی جی کی سپلائی چین بہتر بنانا ہوگی،عالمی سطح پر ایل پی جی کی ترسیل پریشرائزڈ کنٹینرز سے ریفریجریٹڈ اور کرائیوجینک کارگو کی جانب منتقل ہو رہی ہےجس کے لیے بڑے وی ایل جی سی جہازوں اور ریفریجریٹڈ یا کرائیوجینک ایل پی جی وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ نئے طریقہ کار کے فوائد سردیوں سے پہلے عوام تک پہنچیں اورپاکستان توانائی کے شعبے میں ایک بہتر نظام قائم کر سکے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔