اسلام آباد،04 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت ون کانسٹیٹیوشن ایونیو منصوبے کو شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھانے، متاثرہ سرمایہ کاروں کے مفادات کے تحفظ اور متعلقہ اداروں میں اصلاحات کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی کابینہ نے منصوبے سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی سفارشات کی توثیق کی ہے۔
بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم جے آئی ٹی میں نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل تھے، جنہوں نے منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے کر بہتری کے لیے سفارشات مرتب کیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کی اصل رقم واپس کرنے کے ساتھ قابل اطلاق منافع کو بھی مناسب طور پر ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ انہیں مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے شفاف اور بہتر انتظامی ماڈل کے تحت آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ اداروں کی ضروری منظوریوں، سیکیورٹی تقاضوں اور فائر سیفٹی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جے آئی ٹی نے سی ڈی اے کے انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے، آزاد ماسٹر پلان کمیشن کے قیام، سرکاری ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور سرکاری منصوبوں کے ٹھیکوں و نیلامیوں کے لیے پری آڈٹ نظام متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اصلاحات کا مقصد اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، شفافیت کو فروغ دینا اور مستقبل میں ایسے منصوبوں کے لیے مؤثر انتظامی نظام وضع کرنا ہے۔ نیب کو بھی رپورٹ کی روشنی میں مزید تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔











