قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی،ایئر فورس اور نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی متفقہ طور پر منظوری دے  دی

161

اسلام آباد ، 7 جنوری (اے پی پی):قومی اسمبلی نے مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے تینوں بلوں پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ء، پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءاور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ءکی منظوری دے دی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ جس میں فوجی سربراہان کی مدت ملازمت کے حوالے سے تینوں بلوں کی منظوری ہوئی ، ترمیمی بلوں کی منظوری کے بعد چیف آف آرمی سٹاف، چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ کے سربراہ اورپاک بحریہ کے سربراہوں کی تقرریوں یا ان کے عہدے کی مدت میں توسیع کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔

 بحری اور پاک فضائیہ کے سربراہان اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت تین سال کے لئے دوبارہ تقرری کر سکیں گے۔

 اجلاس میں  وزیر دفاع پرویز خٹک نے پیپلز پارٹی سے درخواست کی کہ ایوان میں یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کے لئے وہ اپنی تجاویز واپس لے لیں جس پر پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ انہوں نے بل کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دی تھیں تاہم ملک اور خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی ترامیم پر زور نہیں دیں گے جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے بل کی منظوری کے لئے تحریک پیش کی۔

 ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد سپیکر نے ایوان سے یکے بعد دیگرے بل کی تمام شقوں کی منظوری حاصل کی۔جس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2020ءکی منظوری کی تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دے دی تاہم اس دوران متحدہ مجلس عمل کے ارکان بل کی پہلی رائے  شماری  سے قبل ہی ایوان سے واک آﺅٹ کر گئے اور انہوں نے بل پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

بعد ازاں وزیر دفاع پرویز خٹک نے پاکستان ایئرفورس (ترمیمی) بل 2020ءاور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2020ء کی یکے بعد دیگرے منظوری کے لئے تحاریک ایوان میں پیش کیں  جو    متفقہ طور پر   ایوان  سے  منظور   ہوئے۔

قومی اسمبلی میں اہم قانون سازی کے موقع پر وزیراعظم عمران خان سمیت وزراء‘ اپوزیشن کے اہم رہنما ایوان میں موجود رہے۔

وی  این ایس،  اسلام آباد

Download video