حکومت تعمیراتی شعبہ کے فروغ کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی: وزیراعظم عمران خان

143

اسلام آباد ، 15 جنوری (اے پی پی) :وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے، تعمیراتی شعبہ کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے، تعمیراتی شعبہ کے فروغ سے معاشی عمل تیز اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، حکومت تعمیراتی شعبہ کے فروغ کے لئے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، مختلف سرکاری اداروں کی ملکیت میں ریاستی املاک کو تعمیرات خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو تعمیراتی شعبے کے فروغ کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، چیئرمین نیا پاکستان ہاوسنگ اتھارٹی لیفٹنٹ جنرل(ر) انور علی حیدر، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز کے نمائندے محمد حسن بخشی اور سینئر افسران شریک تھے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیرِ اعظم کو تعمیراتی شعبے کے فروغ کے حوالے سے حکومتی کوششوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) و دیگر متعلقین سے متعدد ملاقاتوں میں شعبے کو درپیش مسائل کے حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت کی جا چکی ہے اور اس حوالے سے شعبے سے متعلقہ افراد کی قابل عمل تجاویز پر اتفاق ہو چکا ہے۔ فکسڈ انکم ٹیکس کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس ضمن میں بھی مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے اتفاق رائے طے پا چکا ہے۔ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومت پہلے ہی اپنی پالیسی وضع کرچکی ہے جس کا اعادہ گزشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں بھی کیا گیا۔ ویلیوایشین ٹیبل کے حوالے سے ایف بی آر آئندہ ایک ہفتے میں علاقائی ویلیوایشن کمیٹیوں کا تقرر کرے گا جس میں آباد، ریئل اسٹیٹ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں علاقوں کی درجہ بندی کے ضمن میں بھی فیصلہ کرسکیں گے۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ خزانہ کو ہدایت کی کہ زمینوں اور تعمیرات سے متعلق عدالتوں میں زیر التوا کیسز کو جلد نمٹانے کے لئے اعلیٰ عدلیہ سے خصوصی بینچ بنانے کی درخواست کی جائے۔ وزیر اعظم نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ این او سیز کی بجائے قوانین اور قواعد و ضوابط سے مطابقت رکھنے کے نظام کو فروغ دیا جائے گا۔ ریاستی زمینوں کو بڑے پیمانے پر تعمیرات کے لئے فراہم کرنے کے حوالے سے تجویز پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ مختلف سرکاری اداروں کی ملکیت میں ریاستی املاک کو تعمیرات اور خصوصاً کم آمدنی والے افراد کے لئے بروئے کار لانا حکومتی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس تجویز سے بھی اتفاق کیا کہ تعمیرات سے متعلقہ ریگولیٹری باڈیز میں آباد کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے گا اور اس کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (سی ڈی اے) سے کیا جائے گا۔ تعمیرات کے شعبے کو صنعت قرار دیے جانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس ضمن میں اصولی فیصلہ لیا جا چکا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس پر جلد از جلد عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ ملنے سے اس شعبے کو بھی وہ تمام سہولیات میسر آئیں گی جو دیگر صنعتوں کو فراہم کی جاتی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی تعمیرات کے شعبے میں کارٹل بنانے کے رجحانات کے خاتمے اور تعمیرات سے وابستہ خام مال کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے کو روکنے کے لئے مسابقتی کمیشن آف پاکستان متحرک کردار ادا کرے۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے لئے حکومت پہلے مرحلے میں نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبے کے لئے 25ارب مختص کرچکی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی شعبے کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے سے چالیس سے زیادہ دیگر شعبے وابستہ ہیں لہذا اس شعبے کے فروغ سے جہاں معاشی عمل تیز ہوگا وہاں عوام کے لئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل مالی حالات کی وجہ سے عوام کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہے۔ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ معاشی عمل تیز ہو اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو تاکہ لوگوں کو ریلیف میسر آئے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ میں حکومت ہر ممکنہ سہولت کاری فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔

وی این ایس اسلا م آباد

Download Video