اسلام آباد ، 20 فروری (اے پی پی) :پبلک اکاو نٹس کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاو س میں کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویرِ حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔اجلاس میں اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی کے چیئرمین نے ہدایت کی کہ 4 ذیلی کمیٹیوں کا ہفتہ میں ایک اجلاس یقینی بنایا جائے۔ اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بینولینٹ فنڈز کی پرائیویٹ کمپنی میں خلاف قانون سرمایہ کاری کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ ڈاکٹر اعجاز حسین نے کہا کہ اس سرمایہ کاری کے حوالے سے ٹی او آرز کا جائزہ لیا گیا اور بورڈ اس سرمایہ کاری کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، 2012ءمیں یہ کیس نیب کو بھجوایا گیا جس پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ نیب کی اگر یہ کارکردگی ہے تو اسے ختم ہی ہوجانا چاہیئے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ نیب صرف سیاسی کیسوں کے پیچھے لگا ہے۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ بورڈ صرف گورنمنٹ سیکیورٹیز کا اختیار رکھتا ہے، پرائیویٹ کمپنیوں میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ متعلقہ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، کل سرمایہ کاری 22 ارب روپے کی ہے جس میں 3 ارب کی سرمایہ کاری نجی کمپنیوں میں کی گئی ہے۔ نیب حکام نے کہا کہ یہ کیس آخری مرحلہ میں ہے، جنوری 2010ءمیں ان کی سرمایہ کاری کمیٹی نے بھی مخالفت کی، ہم نے ریفرنس بنا کر لیگل کمیٹی کو بھجوایا ہے، انہوں نے ایک قانونی اعتراض اٹھایا ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ احسن اقبال کے کیس کی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوئیں اور وہ جیل میں ہیں، یہ دوہرا معیار ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ کٹہرے میں فنانس ڈویژن کو بھی کھڑا کیا جائے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ چیئرمین نیب کو بلایا جائے، نیب نے کہا کہ یہ کیس اختیارات سے تجاوز کا ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ 1 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ پی اے سی نے اس معاملے پر وضاحت کے لئے ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کو طلب کیا ہے۔ منزہ حسن نے کہا کہ کمپنی خسارے میں جا رہی تھی پھر بھی کمپنی میں سرمایہ کاری کیوں کی گئی۔ سیکرٹری اسٹیبلیشمنٹ نے کہا کہ نئے رولز بنا لئے گئے ہیں ، تین ماہ میں انہیں نوٹیفائی کردیا جائے گا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایف پی اے سی کا طویل عرصہ سے سربراہ نہیں ہے ، اسی طرح بہت سے اداروں کے سربراہ تعینات نہیں ہوئے جس کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے کہا کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ گرینڈ حیات، ریلوے پرائم لاہور میں باقاعدگیوں پر فیصلہ دینا تھا۔ ذیلی کمیٹی کے 31 جنوری کے اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ معاملہ مرکزی پبلک اکاﺅنٹس کمٹی حل کرے ۔ ذیلی کمیٹی نے تینوں معاملات پر صرف رائے دی۔ اسلام باد ایئرپورٹ پر متعین فنڈ سے زائد خرچ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور ذیلی کمیٹیوں نے ایف آئی اے اور نیب کو کاروائی نہ کرنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا ہے۔ آڈیٹر جنرل کو فرانزک آڈٹ کرکے رپورٹ ایک ہفتہ میں پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے دوبارہ ان معاملات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی میں ارکان مشاہد حسین سید، راجہ ریاض احمد ، منزہ حسن، شیخ روحیل اصغر، خواجہ شیراز محمود، سردار ایاز صادق ، حنا ربانی کھر ، نورعالم خان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے بھی شرکت کی۔
سورس وی این ایس اسلام آباد











