سکھر۔ 19مارچ(اے پی پی): صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاھ نے کہا ہے کہ سکھر کورنٹائن میں موجود کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں اور دیگر مسافرین کو علاج معالجہ سمیت ہر ممکنہ سہولت مہیا کی جارہی ہیں، ہر فرد کو 14 دن کورنٹائن میں ضرور رہنا ہوگا، یہ واضح پیغام ہے کہ کورنٹائن میں موجود لوگوں کا ٹیسٹ نیگیٹو آنے تک انہیں اپنے گھروں تک نہیں بھیجا جائیگا، ہم ان کے اہل خانہ، محلہ اور گاو ¿ں کے لوگوں کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے، اس لئے علمائے کرام اسٹیک ہولڈرس اور کورنٹائن میں موجود مسافرین حکومتی اقدامات میں بھرپور تعاون کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر آفس سکھر کے کانفرنس روم میں سکھر کورنٹائن کی صورتحال کے حوالے سے طلب کیے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
نہوں نے کہا کہ سکھر کورنٹائن میں موجود مسافرین کیلئے تازہ کھانہ اور مریضوں کیلئے پرہیز کا کھانا تیار کیا جائے تمام اخراجات سندھ حکومت بھرے گی، فنڈز کا کوئی اشو نہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے انتظامیہ کو فنڈز جاری کردئے ہیں۔ انہوں نے کہا کورنٹائین میں موجود مریضوں اور مسافرین کیلئے وائی فائی کی سہولیت دی گئی ہے اس کے ساتھ بچوں کیلئے دودھ، کھلونے اور ادویات کی فراہم کی گئی ہے جبکہ مسافرں کے گھروں میں راشن بھی پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے ایم ایس جی ایم ایم سی کو ہدایت کی کہ کورنٹائن میں رہنے والے مریضوں اور مسافرین کا رکارڈ اور فائل بنائے جائے اسے برقرار رکھا جائے اور ایک اسپتال کی طرح تمام لوگوں کا طبی معائنہ روزانہ بنیادوں پر کیا جائے،جبکہ بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر امراض کی ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے، اسی طرح ڈاکٹرز کی حوصلہ افزائی کے بعد انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ پرسنل پروٹیکشن کٹس ضرور پہنیں اور بہتر طریقے سے خدمات انجام دیں اور ڈیوٹی سے گریز نہ کریں۔
صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ مچھر مار اسپرے کے ساتھ جراثیم کش چوپی لگوائی جائے جبکہ ہر کمرے میں مچھر مار کوائل بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی سکھر کو مریضوں، مسافرین، فوکل پرسن ، رضاکاروں، اسکاو ¿ٹس کا واٹس ایپ گروپ بنانے کا کہا گیا ہے جس میں علمائے کرام کے حوصلہ افزائی اور آگاہی کے وڈیو پیغامات جاری کیے جائیں مریض اور مسافرین اپنے مسائل گروپ پر بتا سکتے ہیں۔ اسی طرح اسکاؤٹس کی مدد سے گھر گھر مہم چلاکر کورونا وائس سے بچاوؤ کے آگاہی اور احتیاطی تدابیر سمیت ہیلتھ ایڈوائزری کے پمفلیٹس اور ہینڈ بل بھی تقسیم کروائے جائیں گے۔صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاھ نے کہا کہ سکھر کورنٹائن میں پہنچنے والی پہلی بیچ میں سے 151 کو کورونا پازیٹو اور 151 کی نیگیٹو آئی ہے، اس وقت ایک ہزار سے زائد مسافر موجود ہیں بچے ہوئے لوگوں کی ٹیسٹس ہو رہی ہیں حکومت کی کوشش ہے کہ تمام مسافروںکو 14 دن کورنٹائین میں ضرور رکھا جائے جب تک مریضوں کی نیگیٹو رپورٹ نہیں آجاتیں تب تک انہیں گھروں کو نہیں چھوٹا جائے گا جتنے بھی دن لگ جائیں حکومت انہیں بھرپور سہولیات فراہم کریگی۔
وی این ایس، سکھر