وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا وفاقی وزراءکے ہمراہ دوسالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب

115

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کیلئے بنائے گئے قو انین پر عملدرآمد کروانا اور نئی قانون سازی پاکستان تحریک انصاف کی ترجیحات میں شامل ہیں، خواتین قیدیوں کے حوالے سے رپورٹ آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کر دی جائے گی، ہماری وزارت انسانی حقوق کے حوالے سے متعدد بلز پاس کروا چکی ہے جبکہ کچھ بلز اپوزیشن کی سیاست کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں اور یہ بلز قائمہ کمیٹیوں میں موجود ہیں، سٹیزن پورٹل پر 17 ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے، خواجہ سراﺅں کیلئے بھی قانون سازی کرنے کے ساتھ پمز ہسپتال میں الگ وارڈ قائم کیا گیا ہے، انسانی حقوق اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی گئی ہے، گزشتہ حکومتوں نے وزارت انسانی حقوق کو اہمیت نہیں دی جبکہ موجودہ حکومت میں اس کو فارن پالیسی میں بھی اہمیت دی گئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پی آئی ڈی میں وفاقی وزراءکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ سابقہ ادوار میں وزارت انسانی حقوق کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی جبکہ موجودہ حکومت میں وزیراعظم عمران خان کا جہاں فوکس دیگر ملکی مسائل کو حل کرنے پر تھا وہاں انہوں نے انسانی حقوق کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایات کیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت نے موجودہ دور حکومت میں تین چیزوں پر سب سے زیادہ فوکس کیا جن میں انسانی حقوق کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور جہاں قوانین میں سقم موجود ہو وہاں پر نئی قانون سازی اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنا شامل ہے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ انسانی حقوق کا مضمون اب ہماری فارن پالیسی کا بھی حصہ بن چکا ہے اور ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کو بھی بین الاقوامی سطح پر اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہما رے قانون میں ملک کے شہریوں کو جو تحفظ حاصل ہے اس پر عملدرآمد یقینی ہونا چاہئے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت نے ”زینب الرٹ بل“، ”قانون معاونت انصاف اتھارٹی ایکٹ 2020ئ“، ”بچوں کے گھریلو کام پر پابندی“، ”دیت عرش اور دامن کے قوانین میں ترامیم“، ”آئی سی ٹی تحفظ بچگانہ ایکٹ“ اور ”نظام انصاف نابالغاں ایکٹ 2018ئ“ منظور کرائے گئے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ متعدد بلز اپوزیشن کی سیاست کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں جن میں کرسچن اینڈ میرج طلاق بل، ڈومیسٹک وائلنس بل، سینئر سٹیزن بل، کوپرل پنشمنٹ بل سمیت دیگر بلز قائمہ کمیٹیوں میں اٹکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت جرنلسٹس پروڈکشن بل پر وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم سٹیزن پورٹل پر انسانی حقوق سے متعلقہ 17 ہزار شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری وزارت کی ہیلپ لائن پر دو سال کے دوران 5 لاکھ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 11 ہزار کو وزارت کی طرف سے قانونی معاونت فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت بچوں سے پیش آنے والے بدسلوکی کے واقعات کے سدباب کیلئے بھی کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے آگاہی مہم شروع کی اور میں نے خود اسلام آباد کے سکولوں میں مختلف پروگرام میں شرکت کی اور بچوں کو بدسلوکی کے واقعات سے بچنے کے بارے میں آگاہی فراہم کی اس کے علاوہ اس حوالے سے ٹی وی چینلز پر بھی اشتہارات چلائے گئے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت نے خواجہ سراﺅں کو ان کے حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت کیں۔ انہوں نے کہا کہ پمز ہسپتال میں خواجہ سراﺅں کیلئے الگ وارڈ قائم کئے اور انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کیلئے کنونشن میں شرکت کیلئے رسائی بھی فراہم کی۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری وزارت کی طرف سے ڈیجیٹل فلم فیسٹیول 4 اگست سے جاری ہے جو 25 اگست تک جاری رہے گا جس میں نہ صرف سماجی مسائل بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی فلم ”فریاد“ دکھائی گئی جس کو وزارت کی وبی سائٹس سے لاکھوں افراد نے آن لائن دیکھا۔ اس کے علاوہ ہماری وزارت نے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ ملکر خواتین کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پروگرام پر بھی کام کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ خواتین قیدیوں کے حوالے سے رپورٹ تیار کر لی گئی ہے جو آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی جائے گی۔