کوئٹہ ۔30ستمبر اے پی پی ):چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہاہے کہ وکلاءتیاری کے ساتھ عدالت آئے تاکہ ججز کو بروقت فیصلے کرنے میں آسانی ہو اور سائلین کو انصاف کی فراہمی جلد یقینی بنایاجاسکے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے بلوچستان بار کونسل کی جانب سے ضلعی کچہری کورٹ میں نوجوان وکلاءمیں کتابیں تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اعجاز الحسن بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل چیئرمین بلوچستان بار کونسل منیر احمد کاکڑ ور دیگر بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ نوجوان وکلاءعدالتوں میں پیش ہونے سے قبل پوری تیاری اور ریفرنس کی کتابیں بھی ساتھ لیکر جایا کرے تاکہ کیسز کا فیصلہ جلد ممکن ہوجوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میںبلوچستان کے نوجوان وکلاءکے ٹریننگ کا سلسلہ ماضی کی طرح جاری رہے گا اور اس ضمن میں تمام متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کرونگا بلوچستان بار کونسل کے عہدیداران اور نوجوان وکلاءاس بارے میں مطمئن رہے ۔تقریب سے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ‘ جسٹس جمال خان مندوخیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی کچہری کوئٹہ تزئین و آرائش کے بعد تاریخی عمارت کی شکل کر گئی ہے انصاف دینے کے ساتھ ماحول اور سہولیات کا ہونا بھی ضروری ہے بطور وکیل جب ضلعی کچہری کوئٹہ میں پریکٹس شروع کرنے کے وقت محسوس کیا تھا کہ ضلعی کچہری کی عمارت کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد کا شکریہ ادا کیا ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے نوجوان وکلاءمیں کتابیں تقسیم کی ۔











