اسلام آباد۔1اکتوبر (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وہ شخص تقریر کر رہا ہے جو سسٹم اور عدالتوں کو دھوکہ دے کے ملک سے باہر بیٹھا ہے، یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی چلتی گاڑی سے کسی کو گالی دے کر بھاگ جائے، جس شخص کو قوم نے 3 مرتبہ وزیراعظم بنایا اس نے بیرون ملک اربوں روپے کے اثاثے اور جائیدادیں بنائیں، معزز عدالتوں نے بھی کہا کہ وہ شخص قانون کا تمسخر اڑا رہا ہے، وزیراعظم ایک ہی بات کر رہے ہیں کہ باتوں میں نہ الجھائیں عدالتوں کو ان دو سوالوں کے جواب دیں کہ آپ نے ایون فیلڈ کیسے بنائے اور پیسے کیسے باہر لے کر گئے اور یہی قوم کے سوال ہیں، نوازشریف اپنی ذات اور اثاثوں کو بچانے کیلئے ملک کی سلامتی کو داﺅ پر لگا رہا ہے اور 30 سال میں انہوں نے ملک کا ستیاناس کیا، نواز شریف اس ملک اور قوم کے مجرم ہیں جنہوں نے ڈالر کو مصنوعی طور پر برقرار رکھنے کے لئے ملکی معیشت کو تباہ کیا جس سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں بند ہوئیں بلکہ صنعتی ترقی کو بھی نقصان ہوا، برآمدات میں کمی ہوئی اور آپ نے تعلیم، صحت اور عوام پر پیسہ خرچ نہیں کیا اور آپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری ہے، لندن کے پرتعیش محل میں بیٹھ کر جو نیلسن منڈیلا بننا چاہتے ہیں وہ قوم کو ایک مرتبہ پھر گمراہ کر رہے ہیں، قوم اداروں پر تنقید برداشت نہیں کرے گی، کورونا کی وجہ سے ساری دنیا کی معیشت پر برا اثر پڑا لیکن بہتر حکمت عملی سے ہمیں کامیابی ملی، ان حالات میں بھی اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں آئی، سیاسی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آتی، اداروں کو داﺅپر لگانا کسی بھی صورت برداشت نہیں ہو گا، وزیر اعظم عمران خان ملک لوٹنے والے کے احتساب کے لیے پر عزم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج میڈیا پر مجرموں کی تقاریر دکھائی جا رہی ہے، ملک سے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے اور جائیدادیں بنانے والے بیرون ملک بیٹھ کر تقریریں کر رہے ہیں۔ وہ قانون اور عدالتوں کو دھوکہ دے کر باہر بیٹھے ہیں جو اپنی ذات اور اثاثے بچانے کیلئے اس ملک کی سلامتی کو بھی داﺅ پر لگا رہے ہیں جس نے انہیں 3 مرتبہ وزیراعظم بنایا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا مطالبہ ہے کہ ادھر ادھر کی باتیں چھوڑ کر آپ دو سوالوں کے جواب دیں کہ آپ اربوں روپے باہر کیسے لے کر گئے اور پرتعیش محلات کیسے بنائے، یہی سوال وزیراعظم عمران خان سے پوچھے گئے جنہوں نے اپنی پوری منی ٹریل عدالت کے سامنے پیش کی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف حقیقت پر مبنی باتیں نہیں کر رہے، ماضی میں بھی انہوں نے ملک کے اداروں کو تباہ کیا وہ اس ملک اور قوم کے مجرم ہیں جنہوں نے مصنوعی طور پر ڈالر کی قدر کو برقرار رکھنے کیلئے ملک کی معیشت کو تباہ کیا، آپ کے دور میں برآمدات کم ہوئیں، تعلیم صحت اور عوام پر فنڈز خرچ نہیں ہوئے، ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک میں مہنگائی ہے، بجلی کے مہنگے منصوبوں کی وجہ سے لوگوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے، پرتعیش ماحول میں بیٹھ کر تقریریں کرنے والوں کو عوام کی تکالیف کا کوئی احساس نہیں، یہ صرف اپنے اثاثے اور ذات کو بچانے کیلئے قوم سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف الطاف حسین کی فوٹو کاپی ہیں جو باہر بیٹھ کر قانون اور اداروں کا تمسخر اڑا رہے ہیں، ایسے بیانات ملک کو مزید کمزور کرتے ہیں اور بیرون ملک بدنامی کا باعث بنتے ہیں، میڈیا اور ہم نے ملکر فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی تقریر کو نشر کیا جانا ہے یا نہیں اگر ان کی تقریر نشر ہوتی ہے تو الطاف حسین پر پابندی کیوں۔ شبلی فراز نے کہا کہ انتخابات پر اعتراضات ہونے پر الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کی جاتی ہے، انتخابات میں دھاندلی کی باتیں کرنے والوں کو آج دو سال بعد یاد آیا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ نوازشریف کیسے سیاست میں آئے سب کو پتہ ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن نے گیارہ سیٹوں پر پٹیشن دائر کیں، پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے جائز طریقہ کار اختیار کیا ہے، آپ کو معلوم تھا کہ وزیراعظم عمران خان آپ کو نہیں چھوڑے گااور عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ بھی اسی بات کیلئے دیا جس کیلئے عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد تھی، چاہے جو کچھ بھی ہو جائے احتساب ہو کر رہے گا جن کی جائیدایں، اثاثے اور اولادیں باہر ہیں انہیں عوام کی کوئی فکر نہیں، ایک طرف ان کی بیٹی خود کو خاندانی رئیس بتاتی ہیں دوسری طرف آپ کا بھائی خود کوغریب کسان کا بیٹا کہلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو عوام کا احساس اور فکر ہوتی تو آپ اداروں کے خلاف بات نہ کرتے اور عدالتوں کے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے۔ جتنی چاہیں چیخیں نکالیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ پرتعیش ماحول میں بیٹھ کر مہنگی گھڑی باندھ کر کہتے ہیں کہ ہمیں عوام کے دکھ کا احساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان باقاعدگی کے ساتھ اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور قیمتوں میں کمی کیلئے اجلاس بلاتے ہیں اور آج بھی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور گندم اور چینی کی درآمد بھی بروقت ہو رہی ہے جو نومبرتک مکمل ہو جائے گی اور نومبر کے بعد شوگر ملوں میں کرشنگ کا سیزن بھی شروع ہو جائے گی۔ گھی، آٹا، چینی، دالیں سستا کرنے کیلئے میکنزم بنا رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نوازشریف نے اپنی ذات کو پچانے کیلئے اپنے پارلیمنٹرینز کا بھی خیال نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مستقبل ہمارے ملک سے جڑا ہے، آپ عدالتوں افواج پاکستان اور اداروں پر بہتان لگا کر بچ نہیں سکتے، نواز شریف قانون سے بھاگا ہوا مجرم ہے وہ عوام کو بغاوت پر اکسا رہا ہے، وہ اور ان کی جماعت بے یقینی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے، ایسے بیانات سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔ حکومت اداروں کو اور ملک کو دا? پر لگانے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو ملک کے قانون کے مطابق تابع کریں اور سوالات کے جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی اشیائے کو سستا کرنے کے لیے حکومت اقدامات کر رہی ہے، کورونا کی وجہ سے ساری دنیا کی معیشت پر برا اثر پڑا ہے، ان حالات میں اشیا خوردونوش کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں آئی۔











