سکھرمیں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر انوار الحق کی کڑ کا میڈیا سے بات چیت

125

سکھر۔06 اکتوبر(اے پی پی):  اقلیتوں کو جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے سے تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں دیگر کمیٹی اراکین نے سرکٹ ہاوس سکھرمیں گھوٹکی،لاڑکانہ حیدرآباد،نواب شاہ، سانگھڑ،تھرپارکر، جیکب آباداور دیگر اضلاع کی ہندو برادری سیت دیگر اقلیتوں کے نمائندگان اور رہنماوں کے ساتھ اجلاس ہوا۔

 اجلاس میں کمشنر سکھر ڈویڑن شفیق احمد مہیسر، آر پی او سکھر ڈاکٹر کامران فضل، ڈپٹی کمشنر سکھر رانا عدیل تصوراور دیگر انتظامی افسران موجود تھے۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان لال چند مالھی، کئیل داس کوہستانی، رمیش لال، نوید عامر جیوا، ڈاکٹر اشوک کمار، شنیلا رٹھ اور دیگر نے شرکت کی۔ ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل اور ایس ایس پی طارق نواز نے اپنے اضلاع میں خواتین اور مردوں کی جانب سے مذہبی کی تبدیلی کے سلسلے میں کیسز کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہم نے اقلتیوں کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی کہ اقلیتیں پاکستان کی محب وطن ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں مذہب کی تبدیلی جیسے مسئلے پر مشترکہ طور پر میکنزم بنایا جائے جو سب کے لیے قابل قبول ہو اس سلسلے میں سفارشات اور تجاویز مرتب کی جاری ہیں جبکہ مذہب کی تبدیلی کے معاملے میں والدین کے حقوق کا بھی خیال رکھنا لازمی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ دین اسلام میں کوئی بھی جبر نہیں، اقلیتی نمائندگان کی جانب سے ملنے والی تجاویز کو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ہندو برادری اور دیگر اقلیتوں نمائندوں کو بغور سنا گیا ہے جبری طور پر مذہبی کی تبدیلی تکلیف دہ عمل ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی نمائندوں کے ساتھ کمشنر سکھر ڈویڑن اور آر پی او سکھر سمیت دیگر انتظامی افسران کے ساتھ قانون سازی اور مذہب کی تبدیلی کے ساتھ تحفظ فراہم کرنے پر تفصیل سے بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی سمیت مذہبی جماعتوں کی نمائندگی بھی ہے، ریاست پاکستان میں اقلیتوں کو دیے گئے حقوق کے تحفظ کی روشنی میں ہی کمیٹی کام کرے گی۔