اسلام آباد،19اکتوبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں پٹرول کی کوئی کمی نہیں ہے،پٹرول پمپوں کو تیل کی فراہمی روکنے یا مقدار کم کرنے پر 9 کمپنیوں پر جرمانے عائد کئے گئے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان کی جانب سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت ملک میں پٹرول کی کوئی کمی نہیں ہے تاہم جون 2020ءمیں پٹرول کی کمی ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل کی منڈی تھوڑا سا غیر مستحکم ہوئی تھی اس کے نتیجے میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں 20دنوں کا لازمی ذخیرہ برقرار نہ رکھ سکیں۔ مختلف ریٹیلرز اور ڈیلرز کی جانب سے منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی اور سٹاک بڑھانا‘ تیل کی فروخت کے مقابلے میں ایک تا 25 جون 2020ءکے دوران تیل کی فروخت میں 28فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جو اس وقت ملک میں تیل کے بحران کی چھان بین کر رہا ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ اوگرا نے متعلقہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر 9آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو جرمانے کئے ہیں۔ ملوث پائی جانے والی کمپنیوں کے خلاف حتمی کارروائی تحقیقاتی کمیشن کی سفارش کے مطابق کی جائے گی۔ ایوان کو بتایا گیا کہ حکومت ملک میں تیل کی فراہمی کو جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔











