وفاقی حکومت  کی  وزیراعلی سندھ کی جانب سے ایک وفاقی وزیر کے ذریعے حکومت ختم کرنے کی دھمکی کے الزام کی مذمت

285

اسلام آباد،22اکتوبر  (اے پی پی):وفاقی حکومت نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے ایک وفاقی وزیر کے ذریعے حکومت ختم کرنے کی دھمکی کے الزام کی مذمت کرتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز اور وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس  میں کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت سندھ میں ایک کھیل کھیلا جارہا ہے جس کا براہ راست فائدہ ہمارے دشمن ملک ہندوستان کو پہنچ رہا ہے، اگر آئی جی سندھ کا اغواہوا ہے توابھی تک تعزیرات پاکستان کے تحت قابل جرم دفعہ کا مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا ، سندھ پولیس کے ٹویٹ   کے مطابق ضابطے کے تحت مقدمہ درج اور گرفتاری ہوئی ہے ، بتایا جائے کہ سندھ پولیس نے ایک قابل ضمانت جرم میں صفدر اعوان کی گرفتاری کیوں ضروری سمجھی، یہ بھی جھوٹ بولا گیا کہ بلاول نے وزیراعظم سے رابطہ نہ ہونے پر آرمی چیف سے رابطہ کیا ، ہم سب کو پتہ ہے کہ آپ کمرے کے اندر کیا کرتے ہیں اور کمرے سے باہر نکل کر کیسے جمہوریت کے چیمپئن بن جاتے ہیں، سیاسی ٹھگوں کی جماعت (ن )لیگ والوں نے اپنے ادوار میں ماڈل ٹائون کی نہتی خواتین پر فائرنگ کی ،بے نظیر کی تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکیں، (ن )لیگ ایسی حرکات کی خالق ہے، یہ لوگ اپنے تھوڑے سے ذاتی مفادات ، کرپشن کے مقدمات اور صحت کے نام پر بھاگے ہوئے اپنے لیڈر کو بچانے کے لئے جمہوریت اور پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،جھوٹوں کے آئی جی اور سیاسی ٹھگ سٹیج پر کھڑے ہوکر پاکستان کے عوام کا خون چوسنے ، اداروں کو تباہ کرنے ، اداروں کے ٹکرائو کی ناکام کوششوں پر عوام سے معافی مانگیں، نواز شریف ،الطاف حسین پارٹ ٹو کا کردار ادا کررہے ہیں ، چھوٹے سے سیاسی مقصد کے لئے ملک کو بدنام نہ کریں ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں کھڑے ہو کر سفید جھوٹ بولا کیونکہ یہ تو ان کی روایت ہے، جھوٹ اور ریا کاری ان کی سیاست کا پہلا ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کی جانب سے ایک وفاقی وزیر پر الزام لگایا کہ دھمکی دی گئی کہ ایف آئی آر درج نہ کرائی تو حکومت سندھ نہیں رہے گی ، ہم اس جھوٹے الزام کی مذمت اور سختی سے تردید کرتے ہیں، اگر وزیراعلی سندھ سچ بولنا چاہتے ہیں تو وہ وفاقی وزیر کا نام بھی بتا دیتے دراصل یہ ذہنی طورپر گھبراہٹ کا شکار ہوگئے ہیں ، جلسوں کا ریسپانس دیکھ کر ان  لوگوں نے جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیا ہے ۔سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کو کسی صورت نہیں چھپایا جاسکتا ۔

 انہوں نے کہا کہ مزار قائد پر ہلٹر بازی اورجو غیر قانونی واقعہ ہوا اس میں صفدر اور مریم اعوان نے جو ڈرامہ رچایاوہ بانی پاکستان کے مزار پر طوفان بدتمیزی بدترین مثال ہے ، اس جرم کو چھپانے کے لئے نیا ناٹک رچایا گیا، سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں صفدر اعوان نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ایک دو نعرے بھی لگائے، زبردستی یا کھنچاتانی نہیں ہوئی، فرض کر لیتے ہیں کہ کھینچا تانی ہوئی بھی ہے تو سندھ کی حدود میں آتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسی  حرکات اور معاملات کی وجہ سے پیپلز پارٹی قومی پارٹی سے علاقائی پارٹی بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر طریقے سے چل رہی ہے ،کورونا وائرس کی وبا کے چیلنج کےباوجود  وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہماری معیشت دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑی ہوگئی ہے، دو خاندانوں کے تسلط کو شکست دیکر عمران خان نے ایسی حکومت کی بنیاد ڈالی جو نہ کاروباری ہے اور نہ خاندانی روابط پر مبنی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی ٹھگوں کے ن گروپ نے دوباتوں کا ذکر کیا جن میں چادر اور چار دیواری کے تحفظ کی بات کی گئی ، کیا چادر اور چار دیواری صرف مریم صفدر کے لئے ہی ہے ۔ماڈل ٹائون کی خواتین پر فائرنگ  ،بے نظیر کی تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکنے سمیت اس طرح کی ہر اوچھی حرکت کے خالق تو (ن )لیگ خود ہی ہے۔یہ لوگ اتنے گر گئے ہیں کہ کسی کو بھی چھوڑتے نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس  کی وبا کے چیلنج سے نمٹنے کے لئےپوری دنیا کوششیں کررہی ہے لاکھوں افراد کی نوکریاں گئیں ہیں ،کاروبار ختم ہوئے ہیں لیکن الحمد اللہ پاکستان میں اس شدت کا نقصان نہیں پہنچا ، آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت بہتر نہ ہو ، افراتفری ہو ، مقدمات ، چوری اور لوٹ مار ، قانون کو مطلوب افراد کو بچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ آپ کو عقل آئے گی ، عوام کے سامنے سچ بولیں گے ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ جھوٹوں کے آئی جی نے سندھ اسمبلی اور پریس کانفرنس میں کراچی واقعہ پر بھی جھوٹ بولا ۔

 انہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل مزار قائد پر ہلڑ بازی ہوئی ، ایک ماحول بنایا گیا، پی ٹی آئی کے کارکنان نے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے درخواست دی ، تھانہ درخواست لیکر رپٹ درج کرتا ہے پھر پولیس اپنا فیصلہ کرتی ہے اور ایف آئی آر درج ہوتی ہے ، پی ٹی آئی کا یہ کردار تھا کہ تحریری درخواست دیکر کارروائی کی استدعا کی ہے ۔ حکومت سندھ 18ویں ترمیم کے بعد ہر معاملے میں خودمختار ہے ۔ صبح اٹھے تو پتہ چلا کہ رات کو ایف آئی آر درج ہوئی اور صفدر اعوان گرفتار ہوئے لیکن زبردستی یاکھینچا تانی کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ، یہ سمجھ نہیں آیا کہ سندھ پولیس نے ایک قابل ضمانت جرم میں کیوں گرفتار کیا ، یہ کھیل رچایا گیا ہے ، پولیس کی موبائل میں فرنٹ سیٹ بٹھا کر تھانے لے جایا جاتا ہے ، محمد زبیر کی جانب سے تاثر دیا گیا کہ آئی جی سندھ کو اغواکیا گیا دوسری جانب سندھ حکومت کا ٹویٹر پر بیان آیا کہ ضابط قانون کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی اور گرفتاری ہوئی ہے ۔ صوبے کے چیف ایگزیکٹو نے پریس کانفرنس سے پہلے منع کیا اس واقعہ پر سوالات نہیں کرنے ، پہلی مرتبہ اس پریس کانفرنس میں سوالات نہیں لئے گئے ، شام تک ایسا کیا ہوا جس کے بعد ایک نیا کھیل رچانا شروع کر دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ وفاقی حکومت تحقیق نہیں کر رہی ، سب سے پہلے سندھ حکومت نے انکوائری کا اعلان کیا ، یہ حدود ہی سندھ حکومت کی ہے اور اسی نے سب کچھ کرنا ہے ، اس کے بعد اس بات کا جواز ہی نہیں بنتا ۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ بلاول ہائوس میں ایسے کون سے اجلاس ہوئے جس کے بعد پولیس کی جانب سے خطوط آنے شروع ہوگئے کہ ہمارا جذبہ ختم ہوگیا ہے ، اس تنازعہ کو بڑھانے کا فائدہ ہمارے پڑوسی ملک کے ایجنڈے سے ملتا ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ضرور پوچھا  کہ پولیس افسران کا ایک دم کیسے جذبہ ختم ہوگیا ہے ، سندھ پولیس کے ساتھ سیاسی مداخلت کے حوالے سے 2018میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہہ دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر (ن )لیگ والے کلبھوشن یادیو کا نام لیکر ثابت کررہے ہیں کہ ان کے انڈین جاسوسوں کے ساتھ روابط ہیں ۔احسن اقبال کہتے ہیں کہ حکومت نے ایکٹ پاس کر کے کلبھوشن کو اپیل کا حق دے دیا ہے ،  انہیں اس چیز کا علم نہیں ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ کیا ہے ، اپوزیشن کلبھوشن یادیو کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے ، حکومت  یہ اس لئے کر رہی ہے کہ ان کے پاس جواز نہ رہے کہ دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں نہ جائے۔