یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی ورچوئل تقرری مقابلے کا انعقاد، دنیا بھر سے 29 مقررین  نے  شرکت کی

269

اسلام آباد ،  26 اکتوبر (اے  پی پی): یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے وزارت امور کشمیر   کے  زیراہتمام بین الاقوامی ورچوئل تقرری مقابلے کا انعقاد کیا  ۔ تقریری مقابلے میں دنیا بھر سے 29 مقررین  نے  شرکت کی ، تقریری مقابلے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنا  تھا ۔ہر مقرر کو دس دس منٹ کا ٹائم دیا  گیا  تھا۔ورچیول انٹرنیشنل ڈیکلیمیش کانٹیسٹ کی افتتاحی تقریب انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں  ہوئی ۔

تقریری مقابلے  میں  حصہ  لیتے ہو ئے   انٹرنیشنل     کریسٹین یونیورسٹی  جاپان  کی   طالبہ  ثناء  خان نے  کہا کہ اکیسویں صدی میں 80 لاکھ لوگوں کو قید رکھنا سمجھ سے باہر ہے، نہتے کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لئے سات دہائیوں سے جدوجہد کر رہے ہیں۔انہوں نے  کہا کہ عالمی حقوق کے چیمپئن ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد پر خاموشی افسوسناک ہے،مغربی ممالک انسانی حقوق پر اپنی معیشت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ثناء  خان نے  کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے موجودہ بھارتی حکومت کو نازی جرمنی سے درست تشبیہہ دی ہے،دنیا کو انسانی حقوق اور انصاف پر اپنے دہرے معیار ختم کرنے ہوں گے۔

Peking یونیورسٹی      چائنہ   سے طالب علم Xu Weidan نے مقا بلے میں حصہ لیتے ہوئے   کہا کہ بی جے پی کی حکومت ہندوتوا کے نظریے کو اپنا ووٹ بینک محفوظ رکھنے کے لیے خطرناک انداز سے استعمال کر رہی ہے،اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جارہی ہے۔ انہوں نے   کہا کہ عالمی اور علاقائی امن کے لئے دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔

انہوں نے  کہا کہ  انسانی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشنر محض بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات اٹھائیں،مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیا جائے۔

فاطمہ   جناح   یونیورسٹی  کے طالب علم شیزل  سلمان خان  نے  کہا کہ 27 اکتوبر کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کی، بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے مسلسل انکاری ہے۔انہوں نے کہا کہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے ذریعے بھارتی افواج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں،پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین سے بھارت کسی بھی شہری کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار رکھ سکتا ہے ۔

شیزل  سلمان خان   نے   کہا کہ خواتین سے زیادتی کو بھارتی افواج نے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں غیر ریاستی افراد کو آباد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھارت کو نازی جرمنی جیسے فاشسٹ نظریات کی تکمیل سے روکے۔

اسلامک  انٹرنیشنل   یونیورسٹی   کی  شمسا حضر    نے  مقابلے میں  حصہ  لیتے   ہوئے کہاکہ  بھارتی مظالم کی وجہ سے سری نگر خوف اور آنسوؤں کا شہر بن چکا ہے ، 5 اگست 2019 کو بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طریقے سے مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کیا، 5 اگست 2019 سے لے کر اب تک 13000 کشمیری نوجوانوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشنز نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی واضح نشاندھی کی ہے

شمسا حضر     نے کہا کہ  بھارت مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے ،  بی جے پی کی ہندو فاشسٹ پالیسیز خطے میں بدامنی کے بیج بو رہی ہیں،ہندو انتہا پسند پالیسیز کی وجہ سے بھارت کے بنگلہ دیش، چین اور نیپال سے بھی تعلقات خراب ہو چکے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ  بھارت کی ہٹ دھرم پالیسیز کی وجہ سے خطے میں ایٹمی تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ایٹمی تصادم کے خطرے کے پیش نظر، دنیا کو مسئلہ کشمیر جلد حل کروانا ہو گا۔

انٹرنیشنل  سکوں  ریاض ،  سعودی    عرب کی   طلبہ  عمامہ  تنویر  نے  مقابلے میں  حصہ  لیتے  ہوئے  کہا کہ  کشمیری 73 سال سے اپنے حق خود ارادیت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں،مقبوضہ کشمیر کے قبرستان مقبول بٹ اور برہان وانی جیسے نوجوانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔انہوں نے  کہا کہ گیس چیمبرز ہولوکاسٹ اور خوف کے دوسرے نشانات آج کشمیر کے حالات سے مختلف نہیں ہیں ،کشمیر کی تاریخ ماورائے عدالت قتل اجتماعی زیادتی تشدد اور اور جبری گمشدگیوں سے بھری ہوئی ہے ۔

عمامہ  تنویر  نے کہا کہ  مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کے فلسفے کو پروان چڑھایا، آج بھارتی انتہا پسندی کی طرف راغب ہیں ۔انہوں نے  کہا کہ ایل او سی  پر لاوا ابل رہا ہے جو کسی ٹائم بھی پھٹ سکتا ہے،کشمیر کے حالات پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے مختلف نہیں ہیں، ویٹو پاور کی حامل طاقتیں کشمیر کے حل میں میں رکاوٹ ہیں۔

عمامہ  تنویر  نے کہا کہ  مودی نے مقبوضہ وادی میں غیر ریاستی عناصر کو آباد کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے ،آج بھارت بے نقاب ہو چکا ہے  اور  اسکی  سیکولرزم اور جمہوریت دفن ہو چکی ہے۔انہوں نے  کہا کہ  اگر ایسٹ تیمور، کیوبیک ،سوڈان اور سکاٹ لینڈ کے مسائل ریفرنڈم سے حل ہوسکتے ہیں تو کشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہو سکتا، یہی وقت ہے کہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے اوپر ٹھوس اقدامات اٹھائے اور  پاکستان بھارت کو اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام فورمز پر جواہر لال نہرو کے وعدے یاد کرواتا رہے گا۔

لاہور  یونیورسٹی   آف منیجمنٹ  سائنسز کے  علی   سمیک   نے    مقابلے میں حصہ  لیتے  ہوئے   کہا کہ  سلک روٹ پر واقع ہونے کی وجہ سے کشمیر کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہونا چاہیے تھا،  مسلہ کشمیر کا حل حکومت پاکستان کی تمام فورمز پر اولین ترجیح رہی ہے۔انہوں  نے کہاکہ 19سالہ حبا کی آنکھوں کو پیلٹ گن سے چھلنی کردیا گیا اس کا کیا قصور تھا؟کشمیر میں ایک سال سے زائد عرصے سے کرفیو نافذ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ  پاکستان ترکی اور ملائیشیا کشمیریوں کے حقوقِ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، بھارت نے 1947 کے نامکمل ایجنڈے کو ظلم و ستم اور خونریزی کا کاروبار بنا دیا ہے ۔

Institute Pertanian Bogor Indonesia سے  Bangkit Ausmaptra Harvin نے  مقابلے میں  حصہ لیتے  ہوئے  کہا کہ  جب بھی جموں کشمیر کا نام ذہن میں آتا ہے تو فورا جنگ اور تشدد ذہن میں آتا ہے ،27 اکتوبر 1947 کو کشمیریوں کو اپنے تمام تر حقوق سے محروم کر دیا گیا اور  اب بھارت نے مقبوضہ کشمیر  میں ڈریکونین قوانین کا اطلاق کر رکھا ہے۔

Alice Salomon Hochschule University, Berlin, Germanyکے   طالب علم  Kristina Reinmueller  نے  مقابلے  میں  حصہ  لیتے ہوئے کہاکہ  انیس سو سنتالیس میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کے ذریعے غیر قانونی طور پر قبضہ کیا اور انیس سو اڑتالیس میں اقوام متحدہ  نے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا  کہ 2016  میں بھارتی افواج نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز کا بے دریغ استعمال کیا،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت سوز مظالم کو بے نقاب کیا ہے،کالے قوانین کے ذریعے بھارتی افواج کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔

مصر  کی   ال اظہر   یونیورسٹی   سے   محمد  شاہد   خان  نے بین الاقوامی ورچوئل تقرری مقابلے میں  حصہ  لیا    اور کہا کہ  زمین پر جنت کشمیر ظلم و ستم اور ناانصافی کا نشان بن چکا ہے،  بھارت مسئلہ کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نہتے کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل اور جھوٹے مقابلوں میں شہید کیا جارہا ہے،انیس سو نوے سے لے کر اب تک تقریبا ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ  اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں  مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو بے نقاب کیا ہے،مقبوضہ کشمیر میں ہر آٹھ کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے،بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر پر عملدرآمد کروائے۔

مقابلے میں  University of Pantheon- Assas Paris- IIسے  Adyara Outtara نے  حصہ  لیا  اور کہا کہ  پانچ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرانے کی کوشش ہے،‏کرونا وائرس کی وبا نے کشمیریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔انہوں نے  کہا کہ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے کشمیری اور مسلمان افسران کو بھارت نے جان بوجھ کر سائیڈ لائن کر دیا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں  پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کر رہی ہیں،مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرکے فلسطین اسرائیل جیسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

ویمن  یونیورسٹی  آزاد   جموع  اینڈ  کشمیر   باغ  سے  نمرہ  فردوس  نے   مقابلے میں حصہ لیا  اور کہا کہ  دل کرتا ہے کہ آنکھیں بند کروں اور محمد بن قاسم اور محمود غزنوی برصغیر میں قدم رکھیں، بھارت کالے قوانین کے اطلاق سے کشمیریوں کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ  نریندر مودی ہندو فاشسٹ اور ایک حقیقی دہشت گرد ہے،اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کو ایک حساس مسئلہ قرار دیا ہے،مسئلہ کشمیر کسی علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا ایک مسئلہ ہے۔

عتیق  الرحمان   جو  کہ    پشاور  یونیورسٹی    سے تعلق   رکھتے  ہیں   نے مقابلے میں  حصہ لیتے ہوئے کہا کہ  مہاراجہ نے ساز باز سے کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے کہا  تھا  کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور  تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کیا ہے ۔

 کراچی  یونیورسٹی    سے   محمد  عمار نے  مقابلے میں  حصہ  لیتے ہوئے  کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہر لمحے اغوا ، خواتین سے زیادتی اور پیلٹ گن کا استعمال عام ہے ،دنیا کی عدم توجہ سے مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے خطرناک جگہ بن چکی ہے،فاشسٹ مائنڈ سیٹ نے کشمیر کو نازی دور میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  آر ایس ایس کا ایجنڈا نہ صرف مسلمانوں کا کشمیر سے خاتمہ بلکہ پورے بھارت سے خاتمہ ہے۔

Libera University Degli Studi, Sociali Guido Carli, Rome   سے     Fabrizio Furlani نے    مقابلے میں  حصہ لیتے ہوئے  کہا کہ  کشمیری نہتے عوام پچھلے ستر سال سے ظلم و جبر کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے  کہاکہ نئی دہلی نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کی ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑا militarised علاقہ ہے۔

Fabrizio Furlani  نے کہا کہ  غیر ریاستی عناصر کو مقبوضہ کشمیر کی شہریت دی جا رہی ہے،  غیر ریاستی عناصر کو مقبوضہ علاقوں کی شہریت دینا چوتھے جینوا کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے۔  انہوں نے  کہا کہ کشمیری نوجوانوں کا بھارت پر اعتبار مکمل ختم ہو چکا ہے، حق خودارادیت کی عدم دستیابی کے باعث کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

University of Ibadan South Africa  سے  Martin Ilhembeنے  مقابلے میں شرکت کی   اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھرپور کردار ادا کیا ہے،پچھلے ستر سالوں میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ بھارتی انتہا پسندی کو بے نقاب کرنے کے نتیجے میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت سے بے دخل کر دیا گیا ہے ،پاکستان اور بھارت کے درمیان امن دونوں ممالک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے،

 یونیورسٹی  آف  آزاد   جموع  اینڈ  کشمیر  کی    طالبہ  Khansa Shah نے  تقریری  مقابلے میں  حصہ  لیتے  ہوئے کہا کہ  مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورتحال دوسری جنگ عظیم سے زیادہ خطرناک ،  ہزاروں غنڈے ہندوتوا کے نظریے پر عملدرآمد کے لیے نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ  قومی سلامتی کے نام پر پانچ ماہ کے بچے کو شہید کرنے کا کیا جواز ہے، آسیہ اندرابی بی اور  ناہیدہ نسرین جیسی خواتین کو جیل میں رکھنے  کیا جواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ  بین الاقوامی برادری نہتے اور مظلوم کشمیریوں کے مسائل کو دیکھتے ہوئے خاموش کیسے بیٹھ سکتی ہے،  دنیا  کو مذہب اور علاقے سے بے نیاز ہوکر انسانی حقوق کا خیال کرنا ہوگا۔