اوکاڑہ ۔29 اکتوبر ( اے پی پی) : پوٹیٹو گرورز کوآپریٹیو سوسائٹی اور کھاد کمپنی کے اشتراک سے آلو کی کاشت اور متوازن کھادوں استعمال پر مقامی میرج ہال میں سیمینار منعقد کیا گیا جس میں جاوید میاںِ اقبال رانا۔ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن خورشید جیلانی ۔سہیل اکمل نوید اورمینجر سوسائٹی بھی شامل تھے۔
سیمینار میں چوہدری ممتاز ناصر نے کاشت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمینوں کا تجزیہ کروائیں اور ضرورت کے مطابق کھادیں ڈالیں، چوہدری حفیظ احمد ڈسٹرکٹ ہیڈ سائل نے بتایا کہ ہمارا محکمہ فوری طور پر تجزیہ کی رپورٹ جاری کرتا ہے تا ہم ٹیوب ویل کی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر دی جاتی ہے ،چودھری محمد مقصود احمد جٹ چئیرمین پوٹیٹو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب ونائب صدر پوٹیٹو گرورز کوآپریٹو سوسائٹی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آلو ایک حادثاتی فصل ہے جو بین الاقوامی قحط کے دنوں میں خوراک کی تلاش میں جنوبی امریکہ پیرو کے پہاڑوں میں دریافت ہوا ۔فرانس کی ملکہ اور روس کے صدر نے آلو اگاؤ اور آلو کھاؤ مہم چلائی جس پر آلو کی کاشتکاری کی گئی اور معاشی حالات درست ہوئے ۔انہوں نے بتایا کہ پوٹیٹو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے محنتی سائنسدانوں نے آلو کی سات اقسام تیار کی ہیں جو سرکاری کارروائی کے بعد دو سالوں تک کاشت کاروں کو ملنا شروع ہوں گے۔ شرکا سے اشفاق جوئیہ پیر نسیم الدین نے بھی خطاب کیا۔