اسلام آباد،9دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ماں اور بچے کی صحت اور غذائی کمی پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ سے آبادی کے مسئلہ پر قابو پایا جا سکتا ہے، اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مربوط روابط اور جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے، آبادی کے مصدقہ اعداد و شمار سے مستقبل کے بارے میں جامع منصوبہ بندی میں مدد ملے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو آبادی سے متعلق سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو کورونا وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے، ہمیں اس وبا سے بچاﺅ کیلئے ایس او پیز پر بھرپور طریقہ سے عمل کرنا چاہئے، میں نے بھی ماسک پہنا ہے اور عوام کو بھی عوامی مقامات پر ماسک پہننا چاہئے، بار بار ہاتھ دھونے چاہئیں اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمہ اور تعلیمی شعبہ کی ترقی اہم چیلنجز ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے کے فوری بعد ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ ماں اور بچے کی صحت اور غذائی کمی پر قابو پانا ضروری ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مائوں کو غذا کی فراہمی سے متعلق اعداد و شمار اکٹھے کرنے میں ہیلتھ وزیٹرز اور فیلڈ ورکرز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالہ سے تمام صوبوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط تعاون اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبادی سے متعلق منصوبہ بندی اور بچوں کی پیدائش میں وقفہ کے حوالہ سے لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کے باعث زچہ و بچہ کی اموات میں کمی آئی ہے جبکہ ماضی میں آبادی اور زچہ و بچہ کی صحت کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی شمولیت سے معیشت کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، گورنر سٹیٹ بینک نے بتایا ہے کہ خواتین کیلئے قرضوں کی مد میں اضافہ کیا گیا ہے، اس حوالہ سے خواتین میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ آبادی کے مصدقہ اعداد و شمار سے مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکتی ہے، احساس پروگرام کے تحت جون 2021ءتک اس حوالہ سے درست اعداد و شمار دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت خواتین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے امداد فراہم کی جا رہی ہے، ان کو نقد رقم دینے کی بجائے ان کے اکاﺅنٹ کھولنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں وراثتی حقوق کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، خواتین کو حکومت کی مالی سکیموں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
اے پی پی/ڈیسک/حامد