لاڑکانہ :مریم نواز کو ہائی کورٹ بار میں خطاب کرنے کی دعوت دینے پر لاڑکانہ کے وکلا دو دھڑوں میں بٹ گئے

101

لاڑکانہ ،21دسمبر (اے پی پی ):لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وکلا قادر بخش بھٹی اور ہائی کورٹ بار کے میمبر مینجنگ کمیٹی عبد الروف کورائی ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے جنرل سیکریٹری ہائی کورٹ بار اشفاق ابڑو کی جانب سے واٹس اپ گروپ پر مریم نواز کو ہائی کورٹ بار سے خطاب کا لیٹر شئیر کیا گیا جس سے ہمیں معلوم ہوا کے ہائی کورٹ بار کی جانب سے مریم نواز کو خطاب کی دعوت دی گئی ہے جو کے انتہائی غلط اقدام ہے ہائی کورٹ کی جانب سے کسی بھی شخصیت کو دعوت خطاب جنرل باڈی اور منیجنگ باڈی کی منظوری کے بعد دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہائی کورٹ کے رجسٹرڈ 4 سو وکلا سے دستخط لیے جاتے ہیں جو کے نہیں کیا گیا مریم نواز کو دعوت خطاب دیے جانے والے لیٹر میں پچاس کے قریب وکلا کے دستخط ہیں جن میں سے بھی متعدد وکلا سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کے انہوں نے دستخط کیے ہیں نہیں لیٹر پر ان کے جعلی دستخط کیے گئے ہیں۔وکلا رہنماوں نے کہا کے دسمبر کا مہینہ ہے ہائی کورٹ بار کے انتخابات کے بجائے پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ عہدیدار مریم نواز کو بلا کر عدلیہ کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہے مریم نواز اور شریف خاندان ملکی سالمیت اور عدلیہ سمیت اداروں کے خلاف تقریریں کرتا ہے شریف خاندان اس وقت انڈیا اور اسرائیل کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں جسے کسی صورت کوئی محب وطن قبول نہیں کرسکتا ۔وکلا نے کہا کے انہوں نے آئی جی سندھ۔ونگ کمانڈر رینجرز۔ہائی کورٹ بار کے صدر اور جنرل سیکرٹری سمیت اعلی حکام کو خط لکھ دئے ہیں کے مریم نواز کو خطاب سے روکا جائے بصورت دیگر مریم نواز کا گھیراو کرکے انہیں ہائی کورٹ میں داخل ہونے سے روکا جائے گا اور اس دوران امن امان کی صورت حال اگر خراب ہوئی تو اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی ہوگی۔