اسلام آباد,10مارچ (اے پی پی):ازبکستان کے وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف نے بدھ کو وزارتِ خارجہ میں وفد کے ہمراہ اپنے پاکستانی ہم منصب مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اورازبکستان کے مابین دو طرفہ تجارت سمیت کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات ،مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے اہم علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کو وسط ایشیائی ممالک میں ایک اہم برادر ملک سمجھتا ہے ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان عقیدے، مشترک تاریخ اور ثقافتی ہم آہنگی پر مبنی خوشگوار تعلقات استوار ہیں جوکثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔وزیر خارجہ نے ازبک اپنے ہم منصب کو قبل ازیں، میونخ اور ماسکو میں ہونیوالی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ازبکستان کے ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ، امن، ترقی اور رابطے بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔اہم علاقائی و عالمی فورمز خاص طور پر اقوام متحدہ، او۔آئی۔سی، ای۔سی۔او اور ایس۔سی۔او میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط خوش آئند ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک علاقائی روابط بڑھانے خاص طورپر پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ٹرانس افغان ریلوے منصوبے کی جلد تعمیر کے لئے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں ۔وزیر خارجہ نے اپنے ازبک ہم منصب کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں اور ان کے مثبت نتائج سے آگاہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین دو طرفہ تجارت سمیت کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا۔ازبک وزیر خارجہ عبدالعزیز کامیلوف نے خطے میں روابط کے فروغ اور قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور توقع ظاہر کی ہے کہ ازبک وزیر خارجہ کامیلوف کے حالیہ دورہ ء پاکستان سے دو طرفہ روابط کی رفتار مزید بڑھانے میں مدد ملے گی جبکہ باہمی مفاد کے شعبوں میں موجود دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے میں مدد ملے گی ۔











