اسلام آباد۔24مئی (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے خطوط پر استوار کرنے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار اہمیت کا حامل ہے، ریاست مدینہ کے دو سنہرے اصول جن میں انصاف اورعوامی فلاح ہیں، مغرب نے انہی اصولوں کو اپنا کر ترقی کی،بد قسمتی سے پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے بارے میں پہلے کسی لیڈر نے نہیں سوچا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز اور کونسل ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی مولانا طاہر اشرفی بھی موجود تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان میں ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی، مولانا نسیم علی شاہ، سید محمد حبیب عرفانی، سید زین اللہ شاہ بخاری، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر، مفتی محمد زبیر، پیرزادہ جنید امین، مولانا حامد الحق حقانی، محمد حسن حسیب الرحمان اور ابوالحسن محمد شاہ، مولانا محمد حنیف جالندھری، جسٹس (ر) محمد رضا خان، محمد شفیق خان، جسٹس (ر) منظور حسین گیلانی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، جاوید عامر عثمان اور پروفیسر ڈاکٹر فرخندہ منصور شامل تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا کردار پاکستان کو ریاست مدینہ کے خطوط پر استوار کرنے میں اہمیت کا حامل ہے۔ریاست مدینہ کے دو سنہرے اصول جن میں انصاف اورعوامی فلاح شامل ہیں، ہماری ترقی کا ضامن بن سکتے ہیں، مغرب نے انہی اصولوں کو اپنا کر ترقی کی، وہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں اور انصاف کا بول بالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے بارے میں پہلے کسی لیڈر نے نہیں سوچا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے سیاست صرف اسی لئے شروع کی کہ ریاست مدینہ کے اصولوں کو لاگو کر کے غریب کی خدمت کر سکوں، میں نے مغرب کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلام کے رہنما اصولوں اور سنت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان فلاحی اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی اقدار ہم سے مختلف ہیں اور ہماری نوجوان نسل کو اس ضمن میں رہنمائی درکار ہے، اسلامی نظریاتی کونسل نوجوان نسل کی اصلاح میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اسلام نے ہی کمزور طبقے کو طاقتور بنایا، خواتین کو حقوق مہیا کئے، اسلام کے رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی انصاف کا نظام رائج ہو سکتا ہے اور ہم کرپشن سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے نظام تک کا سفر ایک جہد مسلسل ہے جس میں معاشرے کے تمام طبقات بشمول مذہبی رہنماؤں کا کردار اہم ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور ارکان نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ، اسلاموفوبیا کے بارے بیانیے، کشمیر اور فلسطینیوں کے حقوق کا مقدمہ لڑنے پر وزیر اعظم عمران خان کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا۔