خودکشی کے اسباب اور محرکات پر غور وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس میرپورخاص رینج  ذوالفقار علی مہر

37

میرپورخاص ،23 جون (اے پی پی )؛میرپورخاص رینج کے تمام سرکاری محکموں اور این جی اوز کا اجلاس میں  شرکت تمام ادارے اس مسئلے کے حل کے لئے اقدامات کریں.  ڈی آئی جی .   ڈی آئی جی آفس پولیس کامپلیکس میرپورخاص میں سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام اور رینج پولیس کی جانب سے  “بڑھتی ہوئی خوکشی کی وجوہات و روک تھام” عورتوں اور بچوں کے مسائل اور ان کے تدارک ” کے عنوان سے ایک بین المحکمانہ اجلاس منعقد کیا گیا۔

 اجلاس کی صدارت ڈی آئی جی میرپورخاص رینج ذوالفقار علی مہر  نے کی، جبکہ اجلاس میں میزبانی کے فرائض سول سوسائٹی سپورٹ پروگرام کے مینیجر کاشف بجیر نے انجام دیئے، اجلاس میں ایس ایس پی تھرپارکر، اے ڈی سی ون ضلع میرپورخاص، انچارج پولیس کمپلین سیل میرپورخاص رینج، انچارج وومن اینڈ چائلڈ سیل میرپورخاص رینج ، ایس ایچ او وومن ضلع عمرکوٹ، ڈاریکٹرز محکمہ تعلیم، ڈویژنل ڈاریکٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد ، ڈاکٹرز، وکلاء رہنماؤں اور پولیس افسران نے شرکت کی. سمینار میں ڈاکٹر امیر علی ابڑو پروفیسر سندھ یونیورسٹی ،سول سوسائٹی کے رہنماوؑں کاشف بجیر، رکن سندھ بار کونسل ایڈوکیٹ میر نعیم ٹالپر،  محمد بخش کپری، سائکلوجسٹ  ڈاکٹر لکیش کھتری  ، نصرت میانو وومن لیڈرشپ فورم ، وکلا رہنماؤں اور دیگر مقررین نے خطاب کیا اور خودکشی کے اسباب اور اس کے سدباب اور عورتوں اور بچوں سے متعلق مسائل اور ان کے حل کے لئے ممکنہ قانونی و معاشرتی اقدامات سے متعلق  اپنا نقطہ نظر پیش کیا. جس کے بعد ڈی آئی جی میرپورخاص رینج ذوالفقار علی مہر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خودکشی کے کیس معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کررہے ہیں ، جبکہ اس حوالے سے پورے معاشرے کو سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جس کے لئے معاشرے کے ہرفرد کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر سال دنیا میں لگ بھگ آٹھ لاکھ  افراد خودکشی کرکے اپنی زندگی داوؑ پر لگا دیتے ہیں، یعنی ہر چالیس سیکنڈ میں ایک زندگی خودکشی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نسبت خودٗکشی کی شرح نسبتاً کم ہے ، تاہم ہمارے معاشرے میں بدنامی کے ڈر سے ایسی اموات کو ریکارڈ پر نہیں لایا جاتا، عام طور پر خودکشی سے اموات کو حادثاتی موت، آنر کلنگ یا دیگر اموات سے جوڑ کر دوسرا رنگ دیدیا جاتا ہے تاہم اس سماجی مسئلے کے پیش نظر، اب وقت آگیا ہے کہ اس مسئلے کو سنگین سماجی مسئلے کے طور پر لیا جائے، دوران خطاب انہوں نے پولیس افسران کو ہدایات بھی جاری کیں کہ خودکشی کے تمام واقعات کی مکمل چھان بین کے ساتھ خودکشی کرنے والے افراد کا مکمل ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے تاکہ خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجوہات جاننے کے ساتھ ساتھ اس کا مکمل سدباب بھی کیا جاسکے۔

اے.پی پی/شر/ریحانہ