وزیراعظم عمران خان  اور حکومت کے اتحادی، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں:  ڈاکٹر بابر  اعوان

10

اسلام آباد،28جون  (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امورڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے اتحادی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں، انتخابی اصلاحات کے بعد عدالتی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے  جبکہ ہم عدالتی اور لا ریفارمز پر بھی کام کررہے ہیں۔

 پیر کو یہاں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے  کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے بجٹ کو دیکھے بغیر اعتراض کیا ہے اور بلوچستان اسمبلی میں بھی اپوزیشن کی طرف سے بحث کو روکنے کی کوشش کی گئی، اپوزیشن سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینا چاہتے ہیں اور عدالت بھی کہتی ہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کا چہرہ ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کے لئے کی گئی بات غیر مناسب تھی ، شہباز شریف سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ووٹ کا   استعمال ان کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، اپوزیشن آئین کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے۔

ایک سوال کے جواب میں بابر اعوان نے کہا کہ نوازشریف کے لئے وطن واپسی کے لئے دو راستے ہیں ، ایک تو یہ کہ وہ خود کو شریفانہ طریقہ سے قانون کے سامنے سرنڈر کریں اور دوسرا یہ کہ  جس عدالت میں ان کا ٹرائل ہو رہا ہے وہ اس سے رجوع کریں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگلے الیکشن سے پہلے انتخابی اصلاحات اور ای وی ایم کا عمل ممکن کرنا ہے، اس کے لئے بجٹ میں رقم بھی مختص کردی گئی ہے۔اپوزیشن کی انتخابی اصلاحات کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور ان کی تجاویز کو بلاوجہ مسترد نہیں کریں گے، تجاویز آئیں گی تو سینیٹ سے بھی قانون منظور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے اور سینیٹ میں قومی اسمبلی کی نسبت چھوٹی جماعتوں کی نمائندگی بھی موجود ہے۔

 ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں پر کتنا خرچ آئے گا اس کی لاگت کا اندازہ کرنے کا اختیار الیکشن کمشن کے پاس ہے، کسی قیمت پر بھی ای وی ایم مشینوں کے معاملے کو بند گلی میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا مظاہرہ دیکھے  بغیر مسترد کیا ہے ، مشین کی کارکردگی کو دیکھے بغیر یہ عمل دراصل  ان کا فرار ہے۔

 انہوں نے کہا کہ 1977کے الیکشن کے بعد کوئی الیکشن ایسا نہیں ہے کہ جس میں دھاندلی کا اعتراض نہ آیاہو،ہر حلقہ میں یہ اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اب ہر پاکستانی کا ایک ووٹ بنے گا۔ن لیگ کو اسی حوالے سے بھیانک خواب نظر آرہا ہے، ای وی ایم مشینوں کے استعمال سے ووٹوں کی گنتی میں بھی گڑ بڑ نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے  بتایا  کہ حکومت کا کوئی بھی اقدام آئین کے خلاف نہیں ہے۔