اپوزیشن عوام سے معافی مانگے،بجٹ میں غیر منتخب افراد کو نوازنے کا الزام بے بنیاد ہے؛ صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی

10

کوئٹہ، یکم جولائی (اے پی پی): صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال 75بلین روپے ریلیز کئے جن میں سے 97فیصد استعمال ہوئے ہیں، فنڈز لیپس ہونے کا اپوزیشن کا دعویٰ بے بنیاد ہے، حکومت نے ہمیشہ اپوزیشن کے جائز مطالبات کا خیال رکھا،بلوچستان کی عوام نے ہمیں 2023تک مینڈیٹ دیا ہے اور اسمبلی میں جو کچھ کیا گیا وہ غیر جمہوری عمل تھا اپوزیشن عوام سے معافی مانگے۔

یہ بات انہوں نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ کے سکندر جمالی آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ نئے مالی سال کا 584ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا جس میں غیر ترقیاتی مد میں 340جبکہ ترقیاتی مد میں 237ارب روپے رکھے گئے ہیں، صوبائی پی ایس ڈی پی 172ارب روپے کا ہے جبکہ وفاق سے 48ارب غیر ملکی امداد سے 16ارب روپے کے منصوبوں پر عملدآمد ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بجٹ خرچ نہ ہونے کی خبریں پھیلا کر عوام میں ابہام پیدا کرنا چاہتی حکومت نے مالی سال 2018-19میں 94فیصد، جبکہ 2020-21میں 75ارب روپے ریلیز کئے جن میں سے 97فیصد فنڈز استعمال ہوئے صرف 1.8ارب روپے ایسے ہیں جو مختلف وجوہات کی بناءپر استعمال نہیں ہوسکے۔

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی نے کہا کہ انکے احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے، 18جون کو پور ی قوم نے دیکھا کہ جو جماعتیں جمہوریت کی دعویدار تھیں۔ انہوں نے ہی جمہوری روایات کو پامال کرتے ہوئے اسمبلی کے گیٹ کو تالے لگائے، گملے پھینکے، نازیبا نعرے کسے جو کچھ اسمبلی میں کیا گیا وہ غیر جمہوری عمل تھا اس حرکت سے صوبے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، اپوزیشن نے اگر احتجاج ہی کرنا تھا تو وہ اسمبلی کے اندر کرتے، اپوزیشن نے 18 جون کو جو کچھ کیا وہ اپنی اس حرکت پر معافی مانگے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اگر ریکوزیشن اجلاس بلایاتو حکومت اس میں ضرور شرکت کریگی اور اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیگی ۔

 ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادیی جماعتوں میں تحفظات اور ناراضگیاں ہوتی رہتی ہیں، سردار یار محمد رند اتحادی اور محترم شخصیت ہیں، استعفیٰ دینا انکا ذاتی فیصلہ ہے، وزیراعلیٰ نے بھی ان سے کہا ہے کہ وہ استعفیٰ واپس لیں ہماری کوشش ہوگی کہ وہ کابینہ میں واپس آجائیں، انکے تحفظات سنے جائیں گے وہ ایک قد م آگئے بڑھائیں گے تو حکومت دو قد م آگے آئیگی۔

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بجٹ بنانا، پیش کرنا اور اسے منظور کروانا آئین کے آرٹیکل 120کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے، کئی اسمبلی اجلاسوں میں بجٹ پر بات ہوئی مختلف شعبہ جات زندگی سے تجاویز لی گئیں جبکہ بجٹ میں غیر منتخب افراد کو نوازنے کا الزام بے بنیاد ہے، کیا حکومت صوبے میں ضروریات کے مطابق کام نہیں کرسکتی ،اپوزیشن نے بجٹ کو پیش ہونے سے روک کر آئین اور اپنے اکابرین کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی وجہ سے کسی رکن نہیں بلکہ پوری اسمبلی کا استحقاق مجروع ہوا، صوبائی حکومت نے اپوزیشن کے پاس مذاکرات کے لئے 4وفود بھیجے مگر اپوزیشن نے مذاکرات نہیں کئے، جمہوریت کے چمپئن بننے والے جمہوری طریقہ اختیار کریں، عوام نے ہمیں 2023تک کا اکثریتی مینڈیٹ دیکر اسمبلی میں بھیجا ہے ،ہم عوام کے مینڈیٹ اور استحقاق کا احترام کرتے ہیں۔