اسلام آباد، 02 اگست ( اےپی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے عرب پارلیمنٹ کے صدر، عادل بن عبدالرحمٰن العسومی، نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی ممالک اسلاموفوبیا کے حوالے سے دنیا کے تصورات تبدیل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔اسلامی ممالک دہشت گردی اور اسلامو فوبیا کے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ۔
دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے چیلنجز پر قریبی تعاون کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے۔مشترکہ عقیدے اور ثقافت کی وجہ سے پاکستانی عوام کا عرب ممالک کے عوام کے ساتھ قدرتی لگاؤ ہے ۔پاکستان مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی جیو سیاست سے جیو اقتصادیات کی طرف منتقل ہو گئی ہے ۔پاکستان کی نئی پالیسی ترقی کیلئے شراکت داری ، سماجی و اقتصادی ترقی اور خطے میں امن پر مرکوز ہے۔پاکستان خطے بالخصوص افغانستان میں امن کے فروغ کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی نسلی کشی میں ملوث ہے۔بھارت شہریت کے قانون کے ذریعے کشمیر میں مسلم آبادی کو کم کررہا ہے۔پاکستان بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطین کی ایک آزاد ریاست کے قیام کا خواہاں ہے۔
اس موقع پر صدر عرب پارلیمنٹ کا کہناتھا کہ پاکستان عرب دنیا کے لیے اہم ملک ، امت مسلمہ کے مقاصد کے حصول میں تاریخی کردار ادا کیا ۔اسلامی ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالم اسلام کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وفود کے تبادلے کی ضرورت ہے۔
عرب پارلیمنٹ نے تنازعہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی۔











