اسلام آباد۔3اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کابینہ نے کاٹن کی کم سے کم امدادی قیمت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، موجودہ حکومت نے کپاس کی پیداوار پر بھرپور توجہ مرکز کی ہے، خریف کی فصلوں پر پیشرفت کے بارے میں خود اور سیکرٹری بھی صوبوں سے رابطے میں ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں رائو محمد اجمل اور دیگر کے پاکستان میں گندم، کپاس، گنا اور چاول کی فی ایکڑ پیداوار سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا کہ تین فصلوں میں پاکستان کی تاریخ کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ چاول، مکئی، گنے کی فصل ریکارڈ رہی۔ کپاس میں کمی درست ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نہیں لی جو ٹیکنالوجی ہم استعمال کرتے تھے وہ دنیا نے خریدی ہم نے نہیں خریدی۔ ہم نے سیڈ اور پلانٹ بریڈر ایکٹ 18 سال بعد بنائے۔ ایک سسٹم کو گیارہ سال لگتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے کام بہتر کریں۔ ہم کم سے کم امدادی قیمت نہیں دے سکتے تھے۔ کابینہ نے اب کاٹن کی کم سے کم امدادی قیمت دی ہے۔ اس میں کئی فریقین ہیں۔ کاٹن پر بھرپور توجہ ہے۔ پنجاب کا ٹارگٹ کے مقابلے میں 3.2 ملین پیداوار ہوئی ہے۔ خریف کی فصلوں پر پیشرفت کے بارے میں صوبوں سے خود بات کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی طرف لے کر جائیں۔ جنید انوار چوہدری کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کا بجٹ چار ارب روپے ہے۔ صوبوں کے اپنے تحقیقاتی ادارے ہیں۔ سمٹ کے سربراہ سے بات ہوئی ہے۔











