اسلام آباد،30اگست (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں پاکستان کے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات (پپس ) کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس پیر کو ادارے کے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کا بحیثیت صدر ادارہ برائے پارلیمانی خدمات اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری کا نائب صدر کی حیثیت سے الوداعی اجلاس تھا۔ چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بحیثیت صدر و نائب صدر اپنے عہدے کی میعاد پوری کر لی ہے جس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی بورڈ آف گورنرز کے بالترتیب صدر و نائب صدر کے عہدے سنبھالیں گے۔ بورڈ آف گورنرز کے الوادعی اجلاس میں اراکین نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کو بطور صدر بورڈ آف گورنرز پپس اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری کو بطور نائب صدر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
اراکین نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے بحیثیت صدر شفاف انداز میں ادارے کے معاملات کو آگے بڑھایا اور ادارے کو قومی و بین الاقوامی سطح پر متعارف کروایا اور کرونا وبا کے باوجود تربیتی ورکشاپس کا انعقاد جاری رکھا گیا۔ صدر بورڈ آف گورنرز محمد صادق سنجرانی نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پپس ایک انتہائی اہم ادارہ ہے، ہم نے کوشش کی کہ تمام معاملات کو موثر انداز میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور وفاق کے مابین رابطہ کاری بڑھانے میں مدد ملی، اراکین پارلیمنٹ کو قواعد وضوابط سے روشناس کرانے میں معاونت فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ برائے پارلیمانی سروسز میں بین الاقوامی پارلیمنٹرینز کیلئے بھی پارلیمانی امور سے متعلق تربیت اور آگاہی کیلئے کورسز متعارف کرائے گئے۔ اس حوالہ سے کئی ممالک کی پارلیمنٹس نے پارلیمانی تربیت کیلئے دلچسپی بھی ظاہر کی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پارلیمنٹرین اور متعلقہ اداروں کے ملازمین کی استعداد کار کو بڑھا نے اور ساتھ ہی سرکاری افسران کوپارلیمانی امور سے متعلق بھی تربیت د ینے کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر اور ٹھوس قانون سازی کیلئے معیاری تحقیق سے استفادہ کرنا ہوگا۔ادارہ جاتی معاونت و رابطہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ادارہ برائے پارلیمانی خدمات، جامعات، سماجی تنظیموں و دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ادارہ جاتی تعاون و روابط کو فروغ دے اور اس سلسلے میں سیمینارز، ورکشاپس اور تربیتی کورسز کے فروغ کیلئے مناسب حکمت عملی بھی اختیار کی جائے۔
نائب صدر پپس محمدقاسم خان سوری نے کہا کہ د ور جدید کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمان کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اس ضمن میں پارلیمان اور اس سے متعلقہ اداروں کے ملازمین کی استعداد کار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شرکائ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری بطور صدر و نائب صدر ادارہ برائے پارلیمانی خدمات نے نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمانی شعبے سے وابستہ ماہرین اور افسران کی استعداد کار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اجلاس میں ارکان نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی جانب سے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کو موثر بنانے کیلئے متعارف کرائے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے علاوہ سینیٹرزدلاور خان، کہدہ بابر، سکندر میندھروکے علاوہ ایم این ایز نفیسہ عنائیت اللہ خان خٹک، محسن نواز رانجھا، شاہدہ اختر علی اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری کے علاوہ سیکرٹری سینیٹ محمد قاسم صمد خان اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پپس محمد انور نے شرکت کی۔
پپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد انور نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بطور صدر ادارہ برائے پارلیمانی خدمات اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری نے بطور نائب صدر ادارے کوموثر بنانے میں مسلسل رہنمائی فرمائی اور کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ادارے میں تعیناتیوں سے متعلق قواعد وضوابط میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ ادارے میں تعیناتی کیلئے آئین کے تحت متعین کئے گئے کوٹہ پر عملدرآمد کیاجائے گا۔
اجلاس میں ادارے کے انتظامی و دیگر امور کا جائزہ بھی لیا گیا۔اجلاس میں پیپس میں دوسرے محکموں سے آنے والے سرکاری ملازمین کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔