درآمدات اور برآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے؛ وزیراعظم
اسلام آباد،10ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے، درآمدات اور برآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے، کاروباری برادری کو موافق فضا اور کاروبار دوست پالیسیوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نےجمعہ کو اپنی زیر صدارت ملکی برآمدات کا حجم بڑھانے کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کے تمام معاشی اعشارئیے مثبت سمت میں بڑھ رہے ہیں تاہم درآمدات اور برآمدات کے درمیان پائے جانے والے فرق کو کم کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔انہوں نے کامرس ڈویژن کو ہدایت کی کہ غیر ممالک میں تعینات پاکستان کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ افسران کے کے لیے اہداف متعین کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کامرس ڈویژن اگلے دو ہفتوں میں آسٹریٹیجک ایکسپورٹ فریم ورک منظوری کے لیے پیش کرے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی برآمدات میں اضافے کے ضمن میں مارکیٹ اور مصنوعات میں تنوع لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کاروباری برادری میں بےشمار پوٹینشل موجود ہے،کاروباری برادری کو موافق فضا اور کاروبار دوست پالیسیوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کی مشاورت سے پالیسیوں کی تشکیل کے فلسفے پر عمل پیرا ہے ، حکومت اور انڈسٹری کی مضبوط پارٹنر شپ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ایک طرف حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے وہاں حکومت کاروباری برادری سے توقع کرتی ہے کہ وہ ان مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ملکی معیشت کے استحکام میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کی موجودہ برآمدات کے حجم میں مجموعی طور پر 30 ارب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، برآمدات بڑھانے کے ضمن میں ممکنہ طور پر آئی ٹی، ٹیکسٹائل، ادویات، پولٹری، چاول ، سبزیاں اور میواجات، چمڑا، نمک، سنگ مرمر، سرا مکس اور سرجیکل اوزار سمیت 19 مصنوعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کامرس ڈویژن نے آگاہ کیا کہ تمام شراکت داروں بشمول صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
اجلاس میں قومی سلامتی کےمشیر ڈاکٹر معید یوسف، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، کامرس ڈویژن اور توانائی ڈویژن کے سیکریٹریز اور سینئر اہلکار شریک ہوئے۔