نوشہروفیروز،13ستمبر (اے پی پی): نوشہرو فیروز 32 سال گذر جانے کے باوجود سول ہسپتال کو ضلعی ہسپتال کا درجہ نہیں ملا 5 کروڑ بجٹ ہونے کے باوجود مریضوں کو دوائیاں اسٹور سے خریدنی پڑتی ہیں سیاسی سماجی تنظیموں اور صحافیوں کا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق نوشہروفیروز ضلع کے عوام بنیادی طبعی سہولتوں سے محروم ہسپتال بچاو ایکشن کمیٹی کے رہنماوں سیاسی سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافی برادری کا احتجاجی مظاہرہ اس موقع رہنماوں یونس راجپر خادم سیال مہر وسطڑو خالد چانڈیو سچل چانڈیو ایم رمضان اور دیگر نے میڈیا کو بتایا ہسپتال میں آنے والے متعدد مریض وینٹلیٹر ناہونے کے باعث انتقال کرجاتے ہیں ہائی کورٹ نے ضلعی ہسپتال میں فوری طور پر وینٹلیٹر انسٹال کرنے کا حکم دیا تھا مگر بدقسمتی سے ہائی کورٹ کے احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا ہے باخبر ذرائع کے مطابق ہسپتال میں 95 ڈاکٹرز کی تنخواہیں وصول کرتے ہیں جبکہ ڈیوٹی پر 30 ڈاکٹر بھی بمشکل نظر آتے ہیں جبکہ 65 کے قریب ڈاکٹرز کو ویزا پر چھوڑا گیا ہے ہسپتال کا بجٹ پانچ کروڑ ہے مگر غریب مریضوں کو دوائیاں اسٹورز سے خریدنی پڑتی ہیں ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی ہے دل دماغ سرجری ناک کان گلہ پتھیالوجیسٹ الٹرا ساونڈ ای سی جی سمیت کسی بھی شعبے میں ماہر ڈاکٹر مقرر نہیں ہے ہسپتال کے لیے آنے فنڈز جس میں مریضوں کا کھانا دوائیں پیٹرول کے اخراجات کو بیدردی سے لوٹ لیا جاتا ہے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو نواب شاہ ریفر کرنا ڈاکٹرز کا اہم فرض بن گیا ہے ہسپتال میں انتقال کرنے والے غریب مریضوں کو ایمبولینس کا نہیں ملتی ہسپتال کا ٹراما سینٹر نامکمل ہے جو کہ کاغزوں میں مکمل دیکھایا گیا ہے ہسپتال کا آپریشن ٹھیٹر گزشتہ سات سال سے بند ہے رہنماوں کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل 51 ماہ سے ہسپتال کو ضلع کا درجہ دینے کیساتھ ساتھ ہسپتال کو تمام جدید طبعی سہولیات سے آراہستہ کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں مگر یہاں کے منتخب نمائندوں اور سندھ حکومت کی بے حسی اور عدم توجہی سے ضلع بھر کی عوام بنیادی طبعی سہولیات سے محروم ہے اگر سندھ نے نوشہروفیروز ضلع ہسپتال کا درجہ اور تمام جدید طبعی سہولیات مہیا نا کیں تو ہم وزیر صحت اور وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینگے۔
Home National District News نوشہروفیروز ضلع کے عوام بنیادی طبعی سہولتوں سے محروم ہسپتال بچاو ایکشن...