پاکستان اس مشکل وقت میں افغانستان کی بھرپور مدد کر رہا ہے،‏ افغانستان میں امن پڑوسی ممالک کیلئےخوش آئند ثابت ہوگا، صدر عارف علوی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

29

اسلام آباد۔13ستمبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے  گزشتہ تین برسوں میں   حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان کی   اندرونی اور بیرونی محاذ پر  کلیدی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے  کہا ہے کہ    پاکستان نئی اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے، کورونا  کی مہلک وبا کے باوجود  حکومت کی موثر پالیسیوں  اور حکمت عملی  کے باعث پاکستان کی معیشت مستحکم رہی،  تر سیلات  ، برآمدات ، اسٹاک ایکس چینج میں نمایاں بہتری سمیت مثبت اقتصادی اشاریے  حکومتی معاشی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت  ہے،  احساس پروگرام کے ذریعے   کمزور طبقوں کے لئے      اقدامات، تعمیراتی شعبہ کےلئے مراعات، کم آمدنی والے افراد کےلئے    مکان اور چھت کی فراہمی  ، کامیاب جوان پروگرام اور یکساں قومی نصاب کا نفاذ قابل تحسین اقدامات ہیں ، بھارت کے انتہاپسند ہندوتوا فاشسٹ نظریہ سے خطے کے امن کو خطرہ  لاحق ہے۔ بھارت کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ نبھائے’ افغانستان میں امن سارے ہمسایہ ممالک کے لئے اہم ہے’ دنیا کو وہ بات لاکھوں انسانی جانیں اور اربوں ڈالر خرچ کرکے سمجھ آئی جو وزیراعظم عمران خان 20 سال سے کہہ رہے تھے’ جوہری قوت’ دہشتگردی کے خلاف جنگ’ پناہ گزینوں کے ساتھ ہمدردی اور تنظیم کا جذبہ پاکستانیوں کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت  ہے’ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ   اور انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سمیت انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں’ جعلی خبریں اور غیبت سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے تربیت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان اس مشکل وقت میں افغانستان کی بھرپور مدد کر رہا ہے،‏ افغانستان میں امن پڑوسی ممالک کیلئےخوش آئند ثابت ہوگا۔   انہوں نے  خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کئی دہائیوں سے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیتوں  بالخصوص مسلمانوں  پر   ظلم و ستم  کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔   وزیر اعظم نے  خود کو کشمیر کا  سفیر کہا  اور بڑے موثر انداز میں بھارت کا اصل چہرہ  دنیا کے  ہر فورم پر بے نقاب کیا۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ   وہ تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط قائم رکھے   اور وزیراعظم عمران خان نے منتخب ہوتے ہی  بھارت کے وزیر اعظم کو دعوت دی کہ اگر آپ امن کی جانب ایک قدم بڑھائیں گے   تو پاکستان دو قدم آگے آئے گا  لیکن بدقسمتی سے   بھارت نے پاکستان کے ہر مثبت قدم کا منفی جواب دیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ فروری 2019 ء میں بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی   اور پاکستان نے  منہ توڑ جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مار گرایا ۔ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو اس پارلیمان کی مشاورت سے  جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس کردیا ۔ انہوں نے بھارت پر واضح کیا کہ وہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے  اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دے۔  انہوں نے کشمیری عوام کو پیغام دیا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے  اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت  کشمیریوں کے حق خود  ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا ۔  انہوں نے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر  چین ،  ترکی،  ایران  اور آذربائیجان سمیت دیگر دوست ممالک کا بھی  شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے شدت پسندانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی ہندوتوا  کے فاشسٹ نظریے کو علاقائی سالمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو پہچاننا چاہئے کہ بھارت کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث اور تخریب کاروں کا سہولت کار ہے۔ بھارت میں جوہری مواد کی چوری اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ بھارتی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہیں جس کی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسے سنگین واقعات کو عالمی برادری اور میڈیا کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ اسلامی دنیا کو دیگر چیلنجز کے ساتھ ساتھ   اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کا ایک اہم کردار ہے اور انہوں نے عالمی برادری بالخصوص مغربی ممالک کو یہ بات باور کرائی ہے کہ وہ اسلام دشمنی  ، تعصب اور تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کو ترک کرکے بین الاقوامی سطح پر امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ  ہمارے برادر ملک افغانستان  میں پچھلے دنوں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا تقریباً20 سال سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جنگ کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنا کر مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ طویل جنگ اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود   افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکا۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں قیام امن کا خواہشمند ہے اور ہم نے اس کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت افغانستان کی عوام کو متحد کرے اور فتح مکہ کے موقع پر حضورۖ کی تعلیمات کے مطابق عام معافی کی پالیسی اپنائے اور خاص طور پر افغانستان کی سرزمین سے کسی پڑوسی ملک کو کوئی خطرہ نہ ہو ۔ اس سلسلے میں طالبان رہنمائوں کے بیانات حوصلہ افزا ہیں۔ اب دنیا کو چاہئے کہ وہ اس وقت  افغان عوام کو بے یارو مدد گار نہ چھوڑے اور ان کی مدد کرے تاکہ انسانی بحران پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی تعمیر اور بحالی میں عالمی برادری اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔ پاکستان اس وقت بھی   افغانستان میں طبی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کر رہا ہے   اور پاکستان کی قومی ایئر لائن افغانستان سے عالمی برادری کے افراد کے انخلا میں پیش پیش رہی ہے  اور اس پر پاکستان کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ افغانستان کے بارے میں وزیراعظم عمران خان اور پاکستان  کا مشورہ  درست ثابت ہوا، اس لئے دنیا کو پاکستان پر بلاجواز تنقید کی بجائے عمران خان کے   سیاسی تدبر کو سراہنا چاہئے اوردنیا کے دیگر معاملات پر ان کی تقلید کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی معاشی ترقی کیلئے جیو اکنامکس اور  علاقائی روابط کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔