لاہور، 16 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین نے کہا ہے کہ ماضی میں پنجاب میں توہین مذہب کے اوسطاً 150 کیسز فائل ہوئے تھے ، اب موثر قوانین سازی کے بعد 2020-21 میں صرف 4 کیسز سامنے آئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور اور ایس ایس ڈی او کے باہمی اشتراک سے لاہور میں منعقدہ کانفرنس سے خطا ب میں کیا۔کانفرنس قیام امن کیلئے اراکان پارلیمنٹ کے کردار کے حوالے سے کی گئی۔ کانفرنس میں صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین اور بیگم پروین سرور نے خصوصی شرکت کی جبکہ سندھ اور پنجاب کے ارکان پارلیمنٹ بھی کانفرنس میں شریک تھے۔
صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ نفرت انگیز مواد کو نصاب سے نکالنے کے لیے بہت سارا کام کیا جاچکا ہے، تحریک انصاف کی حکومت کا مقصد آپس میں بھائی چارہ اور اتحاد کو فروغ دینا ہے، تمام محکموں میں انٹرفیتھ ہارمنی کے پروگرام منعقد کروائے جارہے ہیں جبکہ ارلی چائیلڈ میرج ایکٹ کے خلاف بھی پالیسی لائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار پنجاب میں بین المذاہب ہم آہنگی کا موثر قانون بنایا گیا جس کو سپریم کورٹ نے سراہا اور تمام صوبوں میں لاگو کرنے کو کہا ہے ۔