قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2022-23ء کے بجٹ پر بحث ، مہنگائی کم کرنے، توانائی کے  متبادل ذرائع تلاش کرنے  اور زرعی ترقی  کے لئے اقدامات پر زور

9

اسلام آباد،16جون  (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2022-23ء کے بجٹ پر بحث جمعرات کو بھی جاری رہی، پٹرولیم مصنوعات کی کھپت کم کرنے کے لئے توانائی کے  متبادل ذرائع تلاش کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ارکان نے کہا کہ زرعی مداخل کو سبسڈائز کیا جائے، کسان کو سستی بجلی اور سستا ڈیزل فراہم کرنا ضروری ہے۔ زراعت اور زرعی صنعت ہی ہمارے ترقی کا راستہ ہے، پام آئل کی درآمد سے بچنے کے لئے کوسٹل ایریاز میں پام کے درخت لگائے جائیں، سیاحت کو فروغ دے کر بڑی مقدار میں زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے، ہمیں سولر، بائیو گیس، ونڈ ملز سے بجلی حاصل کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ایک بہتر بجٹ پیش کیا گیا۔ وزیراعظم کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے گوادر کا دورہ کیا اور ماہی گیروں کے لئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا اور اس کو بجٹ میں شامل کیا۔ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہو رہا ہے اس پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت دی جانے والی دو ہزار روپے کی سبسڈی میں اضافہ کیا جائے۔

جمعیت علماء اسلام کے رکن محمد جمال الدین نے کہا کہ  حکومت نے خالی خزانہ ملنے کے باوجود اچھا بجٹ پیش کیا ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدوں کی وجہ سے مشکلات ہیں، ہمارے علاقوں میں روڈ انفراسٹرکچر نہیں ہے، حکومت نے مسمار گھروں کی تعمیر کے لئے چار لاکھ روپے رکھے ہیں جو20 ارب روپے بنتے ہیں۔ کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں عوام نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا لیکن اب منتخب لوگوں سے حلف نہیں لیا جارہا۔ ہمارے علاقے میں قائداعظم یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے۔

تحریک انصاف کے رکن خان محمد جمالی نے کہا کہ میں نے استعفیٰ نہیں دیا تھا، یہ خبریں چلائی گئیں کہ میں نے استعفیٰ واپس لے لیا اس سے سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچا، میرے استعفیٰ پر تحفظات تھے، میں آج بھی پی ٹی آئی میں ہوں اور عمران خان میرا لیڈر ہے۔ موجودہ حکومت نے پٹرول فی لیٹر 84 روپے اضافہ کردیا ہے۔ ڈیزل پر 119 روپے اضافہ ہوا ہے، ہر حکومت میں وزیر خزانہ غیر منتخب لگانے سے ہر حکومت کو نقصان پہنچا ہے، وہ عوام کو جوابدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے عوام کے لئے سخت مشکلات پیدا کردی ہیں۔ حکومت اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کرے۔ جعفر آباد میں خریف کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بجلی کی چوری اور لائن لاسز ہوں وہاں واپڈا کے عملہ کو اس کا جوابدہ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کریں، ان کی ملی بھگت سے بجلی چوری ہوتی ہے۔ جیکب آباد ڈاڈر این فائیو موٹروے کے لئے اراضی حاصل کی جاچکی ہے اور اس پر کام شروع کیا جائے۔ بلوچستان سے یہاں ہر قسم کی نمائندگی ہے اور حکومت کے اتحادی ہیں اس لئے بلوچستان کے حقوق کی بات کریں۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کسی حلقہ سے منتخب رکن اس ایوان کا قابل عزت رکن ہے، یہ عوام کی دانش گاہ ہے، یہاں آکر وہی بات کرنی چاہیے۔  مسلم لیگ (ن) کے رکن سید جاوید حسنین نے کہا کہ حکومت نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دی ہے کہ ریاست ہے تو ہم سب ہیں۔ مشکل ترین حالات میں حکومت لی گئی، ہم پرامید ہے کہ شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کامیاب ہوگی اور ملک کو مسائل سے نکالے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں، زراعت کو ترقی دیئے بغیر ملک خوشحال نہیں ہو سکتا، کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پام آئل کی درآمد سے بچنے کے لئے کوسٹل ایریاز میں پام کے درخت لگائے جائیں۔ سیاحت کو فروغ دے کر ہم بڑی مقدار میں زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں سولر، بائیو گیس، ونڈ ملز سے بجلی حاصل کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں پسماندگی دور کی جائے، میرے حلقے میں سوئی گیس کے 2013ء کے نامکمل پراجیکٹ مکمل کئے جائیں۔ زراعت پر ایک ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے۔ اس کو مدنظر رکھ کر زرعی پالیسی بنائیں تب ہی آئی ایم ایف سے نجات مل سکتی ہے۔

معیت ن ایس، اسلام آباد

ڈاکٹر افضل ڈھانڈلہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے، معیشت تباہ حال لیکن اس کا حل قوم کو مل بیٹھ کر نکالنا ہوگا۔ قومی یکجہتی کی جتنی ضرورت اس وقت ہے ماضی میں نہیں تھی۔ ہر حکومت یہ کہتی ہے کہ معیشت تباہ حال ملی، آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے حصول کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صحت و تعلیم پر خاص توجہ نہیں دی گئی۔ پانی کی کمی کا ادراک شاید اس وقت نہیں ہو رہا، آنے والے وقتوں میں یہ پٹرول سے مہنگا ہوگا۔ اس کا متبادل بھی کچھ نہیں۔ زرعی مداخل کو سبسڈائز کیا جائے، کسان کو سستی بجلی اور سستا ڈیزل فراہم کرنا ضروری ہے۔ زراعت اور زرعی صنعت ہی ہمارے ترقی کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ایسٹرن و ویسٹرن روٹ کو بذریعہ بھکر ملانے سے سینکڑوں کلومیٹر گوادر کا فاصلہ کم ہوگا۔ تھل کے کاشتکاروں کی فصل نہ ہونے کی وجہ سے  وہ اپنے زرعی قرضے واپس نہیں کر سکتے۔ ان تین تحصیلوں کے کاشتکاروں کے 3 ارب روپے قرض ہے یہ حکومت معاف کردے تو ان کی رہن شدہ اراضی بنکوں کے ذریعے نیلامی سے بچ سکتی ہے۔ ان کے سود پر قرضے معاف کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ سرائیکی عوام سے صوبے کا وعدہ ہر حکومت نے کیا، پی ٹی آئی نے جنوبی محاذ بنایا کہ 100 دنوں میں سرائیکی صوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔

وفاقی وزیر سردار ایاز صادق نے کہا کہ چھوٹے کاشتکار کے حوالے سے یہ تجویز آئی کہ سود در سود قرض بڑھ رہا ہے، قرض کی رقم شہید کو بھی معاف نہیں ہے ، جتنا قرض لیا گیا ہے وہ تو واپس کرنا ضروری ہے لیکن اس پر لگائے جانے والے سود کے حل کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان پر مشتمل ایک وفد وزارت خزانہ کے ذریعے زرعی ترقیاتی بنک کے صدر سے ملاقات کرکے اس کا حل نکالتے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ یہ اہم تجویز ہے اس پر غور کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے نوابزادہ افتخار نے کہا کہ جب سابق حکومت آئی ایم ایف کے پاس جارہی تھی تو ہم نے ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کیا تھا۔ آج قوم عمران خان کی نااہلی کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ رزاق دائود، سابق گورنر پنجاب اور شبر زیدی نے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی باتیں شروع کی تھیں۔  ہماری قیادت نے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا اور آئینی اور قانونی طریقے سے حکومت کو گھر رخصت کردیا، خارجہ محاذ پر ہم چین،برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا، قطر اور  امریکہ ، یورپ کو ناراض کر چکے تھے۔ اس صورتحال میں ملک زوال کی طرف جارہا تھا، موجودہ حکومت نے خارجہ محاذ پر محبت کے ساتھ پاکستان کو دنیا سے مربوط کردیا ہے۔