اسلام آباد ،03 اگست(اے پی پی ): مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش جنگی جرم ہے۔بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں آبادی تناسب کو بگاڑ کر مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنیکی کوشش کر رہی ہے۔اس غرض سے صرف پنڈتوں کیلئے ضلع کپواڑہ میں 36کنال سے زائداراضی مختص کی گئی ہے جبکہ غیر کشمیری 42 لاکھ ہندوؤں کو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹس جاری کئے گئے ہیں جو مقبوضہ کشمیر کی کل آبادی کا 31فیصد حصہ بنتا ہے ۔
مودی حکومت آئندہ 5برسوں کیلئے مردم شماری کو التوا میں ڈال کر وقت حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر کےمسلم تشخص کو مسخ کیا جا سکے۔مسلم آبادی کم کرنے کیلئے بھارتی غنڈے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں انتظامی کونسل کے ایک اجلاس میں پنڈت ملازمین کی ٹرانزٹ رہائشگاہوں کیلئے اراضی مختص کرنے کی محکمہ ریونیو کی تجویز کی منظوری دی جاچکی ہے، کشمیری مسلمانوں کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کر کے انہیں نیلام کیا جا رہا ہے۔
بھارتی فوج مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی میں گھناونا کردار ادا کر رہی ہے۔”کشمیر ری آرگنائزیشن آرڈر” 2020 ءچوتھے جنیوا کنوینشن کے آرٹیکل 49 کی واضح خلاف ورزی اورجنگی جرم ہے ۔مودی سرکار بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی اس ریاستی دہشتگردی کے خلاف مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ،پارسی،اعتدال پسند اور پڑھے لکھے ہندوؤں نے بھی احتجاج کیا ہے جبکہ او آئی سی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان نے بھارت کے اس جارحانہ گھناؤنے فعل کو ہر فورم پر اٹھا رکھا ہے کیونکہ یہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔











