اسلام آباد،11اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان شرمناک اور زہریلا کھیل کھیل کر اپنی فارن فنڈنگ سے نظر ہٹوانے کی کوشش کر رہے ہیں، شہداء کے خلاف شرمناک مہم چلانے سے توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ سے توجہ نہیں ہٹوائی جا سکتی، فارن فنڈنگ ملک کا دفاع کمزور کرنے کے لئے استعمال ہوئی، فارن ایجنٹ عمران خان نے پانچ سال جھوٹے حلف نامے جمع کروائے، ایف آئی اے فارن فنڈنگ کے استعمال کی تحقیقات کر رہی ہے۔
جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ چار سال اس ملک پر نالائق اور نااہل وزیراعظم مسلط رہا جس نے ملک کو لوٹا اور عوام کو بے روزگار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان فارن ایجنٹ اور فارن ایڈڈ پارٹی کا چیئرمین ہے جس نے فارن فنڈنگ وصول کی، 2008ء سے 2013ء تک لی گئی ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے میں پی ٹی آئی فارن ایڈڈ پارٹی ڈیکلیئر ہو چکی ہے، الیکشن کمیشن کے فیصلہ کے مطابق عمران خان نے پانچ سال تک جعلی بیان حلفی جمع کروائے، عمران خان نے 351 فارن کمپنیوں اور 34 غیر ملکیوں سے فنڈنگ وصول کی، پاکستان میں کمپنیوں سے بھی ممنوعہ فنڈنگ وصول کی، انہوں نے یہ تمام فنڈنگ الیکشن کمیشن میں ڈیکلیئر نہیں کی اور الیکشن کمیشن میں جعلی اور جھوٹے بیان حلفی جمع کرواتے رہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ چور اور فارن ایجنٹ آٹھ سال کے بعد پکڑے گئے ہیں، یہ ایسے فارن ایجنٹ ہیں جنہوں نے ایک سیاسی جماعت کا سہارا لیا اور اس سیاسی جماعت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکن عمران خان سے سوال کریں کہ انہوں نے ان کی پارٹی کو کیوں فارن ایڈڈ پارٹی ڈیکلیئر کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ممنوعہ فنڈنگ کی تحقیقات 2008ء سے2013ء تک کی ہیں، 2013ء سے بعد کی تحقیقات ہونا ابھی باقی ہیں کہ جو فارن فنڈنگ اس عرصے میں آئی وہ کہاں گئی، اس پر ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ فارن ایجنٹ عمران خان نے اس ملک کے خلاف سازش کی، وہ شرمناک حرکتیں اور ملک کے خلاف زہریلا کھیل کھیل کر اپنی فارن فنڈنگ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے سے نظر ہٹوانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہیلی کاپٹر حادثہ کے شہداء کے خلاف اپنے ٹرولرز کے ذریعے سوشل میڈیا پر مہم چلوائی، انہیں جب بھی جواب دینا ہوتا ہے وہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے چیف آف اسٹاف نے اے آر وائی پر اس ٹرانسکرپٹ کو پڑھا جو عمران خان کا لکھا ہوا تھا، اس ٹرانسکرپٹ میں ریڈ لائن کراس ہوئیں، ان کا افواج پاکستان میں بغاوت کو اکسانے کا منصوبہ تھا۔ شہباز گل نے کہا کہ لانس نائیک سے لے کر بریگیڈیئر تک کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے، انہیں سیاست سے منسلک کیا گیا اور انہیں ہائی کمان کے احکامات پر بغاوت کی کال دی، 15 منٹ تک کسی وقفے کے بغیر یہ بیپر اے آر وائے پر چلتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ان تمام چیزوں سے نظر ہٹوانے کے لئے کل دو جھنڈے لگا کر جھوٹ بولتے رہے، عمران خان کو پتہ ہے کہ وہ بطور فارن ایجنٹ پکڑے گئے ہیں، انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بھی فارن ایڈڈ ڈیکلیئر کروا دی ہے جس پر آج پی ٹی آئی کے کارکنوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان غیر ملکی کمپنیوں اور افراد سے پیسہ منگواتے رہے اور کل جب وہ الزامات لگا رہے تھے تو انہیں یہ بتانا چاہئے تھا کہ انہوں نے غیر ملکیوں سے کتنا پیسہ وصول کیا اور اس پیسے کو کہاں استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے چیریٹی فنڈ وصول کیا اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا، ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کے چار ملازمین طاہر اقبال، محمد ارشد، نعمان افضل اور محمد رفیق اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ ان سے خالی چیک لے لیا جاتا تھا اور انہیں کچھ پتہ نہیں کہ یہ فارن فنڈنگ کہاں سے آتی اور کہاں جاتی تھی، ان کے اکائونٹس سے یہ رقم نکال لی جاتی تھی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے 351 کمپنیوں سے لیا گیا پیسہ کہاں خرچ کیا؟، کیا یہ پیسہ کشمیر کا سودا کرنے، ملک کی معیشت تباہ کرنے، نوجوانوں کو بے روزگار کرنے، ملک کے اندر ڈاکہ ڈالنے، ملک کے دفاع کو کمزور کرنے پر خرچ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ان دوست ممالک کو بھی ناراض کیا جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ پکڑے جانے پر عمران خان ملک میں فتنہ، فساد اور انارکی پیدا کرنے اور اداروں کے درمیان دراڑیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عمران خان ان گھٹیا اور گری ہوئی حرکتوں کے ذریعے فارن فنڈنگ سے نظر نہیں ہٹوا سکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان اپنا موازنہ نواز شریف سے کیسے کر سکتے ہیں؟ نواز شریف نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، سی پیک دیا، ملک کے دفاع کو مضبوط کیا، نواز شریف نے عمران خان کی طرح افواج پاکستان میں بغاوت کی کال نہیں دی، اداروں میں دراڑیں نہیں ڈالیں، نواز شریف پاکستان کو بنانے والوں میں سے ہیں، نواز شریف نے اس ملک میں آئین کی پاسداری کا نعرہ بلند کیا، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا جبکہ عمران خان نے اداروں سے کہا کہ آپ نیوٹرل نہیں رہ سکتے، نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ عمران خان اداروں سے کہتے ہیں کہ وہ ان کی سیاست کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آئینی عہدوں سے آئین شکنی کروائی، وہ خود آئین شکن اور فارن ایجنٹ ہیں، عوام کو پتہ ہونا چاہئے کہ عمران خان نے سیاسی جماعت کا نام استعمال کر کے ممنوعہ فنڈنگ ایک منصوبہ کے تحت وصول کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی چوری پکڑی گئی، ڈاکہ پکڑا گیا، سب کچھ برآمد ہو گیا تو وہ ہر روز بیٹھ کر دوسروں پر الزام عائد کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ چار سال عمران خان کی حکومت تھی، انہوں نے نواز شریف، شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کی قیادت، اپوزیشن کی بہنوں بیٹیوں پر جھوٹے کیسز بنائے، نیب چیئرمین کمپرومائز کیا، طیبہ گل کو وزیراعظم ہائوس کے اندر اغواء کر کے رکھا تاکہ وہ چیئرمین نیب کے خلاف ثبوت فراہم کرے، اس طرح چیئرمین نیب کو کمپرومائز کر کے نیب نیازی گٹھ جوڑ بنا، عمران خان نے نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ تک کیسز بھیجے لیکن ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف اس جھوٹے شخص کے پاس صرف اقامہ نکلا، بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لے کر نواز شریف کو نااہل کیا گیا، نواز شریف نے ملک کو ترقی دی، سی پیک دیا، ملکی دفاع مضبوط کیا، ملکی ترقی 6 فیصد تک گئی، ملک میں امن قائم ہوا، یہ سب فارن ایجنٹ کے منصوبے کے خلاف تھا، 2018ء میں عمران خان نے اپنا منصوبہ مسلط کر کے ملک میں فتنہ اور نفرت پھیلائی، نالائقی، نااہلی، چوری، ڈاکہ، کرپشن، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے لوٹ مار کی اور آج دو جھنڈے رکھ کر وہ سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں، نوجوانوں کو پتہ ہونا چاہئے کہ توشہ خانہ میں عمران خان نے کس طرح لوٹ مار کی۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم جو تحائف لئے، انہیں ڈیکلیئر نہیں کیا۔ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف لے کر بازار میں فروخت کئے اور ایک سال کے بعد توشہ خانہ کی پالیسی کو تبدیل کر کے 20 فیصد کیا اور اس کے مطابق پیسے خزانے میں جمع کرائے، توشہ خانہ کی پالیسی 50 فیصد رقم تھی جسے عمران خان نے 20 فیصد کیا اور 20 فیصد رقم پر تحائف لیتے رہے، یہ وہ تحائف ہیں جو سامنے آئے اور پکڑے گئے، اس کے علاوہ بھی تحائف ہیں جو انہوں نے ڈیکلیئر ہی نہیں کئے۔











