اسلام آباد۔2دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ باہم معذوری کا شکار افراد عام انسانوں کی طرح بہت سے ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، ایسے خصوصی افراد کی سہولت کیلئے اپنے اردگرد آسانیاں پیدا کریں، ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں اور انہیں سماجی ، معاشی ، کاروباری اور دیگر سرگرمیوں میں ضرور شامل کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر ان کے حقوق اور آگاہی مہم کے حوالے سے اپنے آڈیو/وڈیو پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً ایک ارب افراد کسی نہ کسی قسم کی جسمانی و ذہنی معذوری کا شکار ہیں، پاکستان میں بھی ایسے لوگوں کی تعداد تقریباً 10 سے 12 فیصد ہے، ایسے افراد معذور نہیں ہوتے بلکہ باہم معذوری کا شکار ہوتے ہیں، خصوصی افراد یا باہم معذوری کا شکار افراد عام انسانوں کی طرح بہت سے ٹیلنٹ اور صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خصوصی افراد کے حقوق کا تحفظ اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے مگر یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ خصوصی افراد کو معاشرہ کے مرکزی دھارے سے الگ رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، انہیں اپنی نقل و حرکت میں مشکلات پیش آتی ہیں اورویل چیئر کیلئے ریمپ نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مقامات پر سہولیات تک ان کی رسائی محدود ہو جاتی ہے۔بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ انہیں معاشرے میں امتیازی اور منفی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سماجی یا ڈھانچہ جاتی، منظم یا قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے وہ تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خصوصی افراد کی سہولت کیلئے اپنے اردگرد آسانیاں پیدا کریں، خصوصی افراد کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں ضرور شامل کریں، ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں اور انہیں سماجی ، معاشی ، کاروباری اور دیگر سرگرمیوں میں ضرور شامل کریں۔ انہوں نے کہا کہ میری کاروباری برادری اور سرکاری و نجی شعبہ سے گزارش ہے کہ وہ خصوصی افراد کو ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں اور ان کے کوٹے کے اعتبار سے نوکریاں دیں ، کاروباری اور معاشی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت کو یقینی بنائیں اور کام کی جگہ پر افراد باہم معذوری کیلئے دوستانہ ماحول کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میڈیا سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ خصوصی افراد کے حقوق اور ان کے بارے میں پائے جانے والے منفی رویوں کو ختم کرنے اور حوصلہ شکنی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کرے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہماری مشترکہ کوششوں سے ہم معذوری کے ساتھ جڑی منفی سوچ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ، اس کیلئے ہمیں آپ سب کا تعاون درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کا خصوصی احساس کریں تاکہ کوئی بھی شخص معذوری کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔











