اسلام آباد،7اگست (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل اور سی پیک منصوبے مل کر ملک کومعاشی ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے، چینی کمپنیوں کے پاکستان میں کام کرنے سے روزگار کے نئے مواقع پیداہوں گے ،چینی کمپنیوں نے سی پیک میں 30 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں سی پیک اور ترقیاتی کاموں میں خدمات سرانجام دینے والی چینی کمپنیوں اور بینکوں کو ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک منصوبوں نے پاکستان کی صنعتی ترقی میں اہم کردار اداکیا جس سے نہ صرف ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور معاشی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کےتحت سی پیک منصوبوں کے 10 سال مکمل ہونے کے تقریبات منائی ہیں۔ یہ منصوبہ چینی صدر شی جن پنگ کی ذہانت اور وژن کا عکاس ہے، ان منصوبوں کے باعث چینی کمپنیوں نے 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی ہے، صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چینی حکومت اور کمپنیاں پاکستان میں معاشی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اب سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جس میں گرین کوریڈور ، انوویشن ، آئی ٹی کوریڈور ، خصوصی اقتصادی زونز جیسے بڑے منصوبے شامل ہیں۔ یہ سی پیک کے تحت چینی اور پاکستانی حکومت کے کاروباری منصوبے ہیں۔سپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) حکومت کا اہم اقدام ہے۔ یہ کثیر الجہتی فورم ہے جس میں وفاق ، صوبائی اکائیوں اور پاک فوج کی نمائندگی شامل ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اس معاملے میں سرگرمی سے حصہ لے رہےہیں۔وہ پاکستان کے کاز کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوان جن کے پاس تعلیم اور ٹیلنٹ تو ہےمگر ان کے پاس ملازمتیں نہیں ہیں ان کو اس سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکیں گے، اس سے ملک کی صنعتوں اور زراعت کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایس آئی ایف سی ملک کی ترقی ، سرمایہ کاری اور زرعی شعبہ کے فروغ کے لئے اہم روڈ میپ ہے، چینی ناظم الامور نے نہ صرف سی پیک منصوبوں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جب پاکستان مشکل وقت سے گزر رہا تھا اور ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام میں مشکل چیلنج کاسامنا تھا صدر شی جن پنگ ، چینی حکومت اور چین ناظم الامور نے ہماری ذاتی طورپر مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں بہترین کام کیا ہے،چینی کمپنیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مشکل وقت ختم ہو گیا ہے، ہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں،ہم نے اپنے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے،ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
قبل ازیں تقریب سےخطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین نے کہا کہ چینی کمپنیوں اور بینکوں نے دونوں ممالک کامشترکہ خواب پورا کرنے کے لئے بھرپور محنت سے کام کیا، سی پیک انفراسٹرکچر کے نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
پاکستان میں چین کی ناظم الامور پینگ چنکسونے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین سی پیک کو 10 سال مکمل ہونے کی تقریبات منا رہے ہیں۔ سی پیک منصوبوں کی رفتار تیزکرنے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے منفرد رشتے میں جڑے ہیں جو اعتماد پرقائم ہیں۔ صدر شی جن پنگ نے سی پیک کی 10 ویں سالگرہ پر تہنیتی خط بھیجا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2013 میں شروع کئے گئے سی پیک منصوبے کو دونوں ملکوں نے اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ سی پیک کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے۔ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کے لئے باہمی شراکت داری کو فروغ دیاجا رہا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سی پیک اور ترقیاتی کاموں میں خدمات سرانجام دینے والی چینی کمپنیوں اور بینکوں کے نمائندگان میں ایوارڈز تقسیم کئے ۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری چوہدری سالک حسین ، چینی ناظم الامور کے علاوہ اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔











