لاہور،7 اگست( اے پی پین): وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہماری سیاسی قربانی سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا، آئین پر عمل کرتے ہوئے آئینی مدت کے مطابق اسمبلیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جو بھی الیکشن شیڈول ہوگا اس پر عملدرآمدآئین و قانون کے مطابق ہوگا۔
ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو جوہر ٹائون میں سیرت سنٹر کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے آئین پر عمل کرتے ہوئے آئینی مدت کے مطابق اسمبلیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے،9 اگست رات بارہ بجے اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی اور نگران حکومت قائم ہو جائے گی، نگران حکومت اور الیکشن کمیشن اگلے انتخابی شیڈول کااعلان کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ ساتویں مردم شماری کا بھی نوٹفکیشن جاری ہو چکا ہے، اب نئی حلقہ بندی کا آغاز ہوگا ،یہ الیکشن کمیشن پر منحصر ہے کہ وہ الیکشن کے انعقاد کے لیے کب تک اپنی تیاریاں مکمل کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کسی کو پاکستان کے آئین سے فرار نہیں ہے جو بھی الیکشن شیڈول ہوگا آئین و قانون کے مطابق اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔
احسن اقبال نے کہاکہ مسلم لیگ( ن) کا 2013-18تک کا ریکارڈ عوام کے سامنے ہے، ہم نے دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ ختم کر کے معیشت بہتر کر کے 6 فیصد تک پہنچائی،ہم نے بجلی کے نئے منصوبے شروع کئے، ترقی کا پہیہ رواں دواں تھا کہ ملک کا حکمران ایسے اناڑی شخص کو بنا دیا گیا جس کو حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا ۔انہوں نے کہاکہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب تھا، ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے تو انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومت کے وعدوں پر عمل درآمد سے بات ہو سکتی ہے، ہمیں مجبوراً آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑیں، ہماری سیاسی قربانی سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا۔
ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ن لیگ پی ٹی آئی چیئرمین کی طرح انتقامی سوچ نہیں رکھتی، پی ٹی آئی چیئرمین کو جیل میں عام آدمی کے مطابق سلوک ہوگا۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہاکہ عدلیہ پر منحصر ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین سمیت کسی کو ضمانت دے ، ان کے خلاف کرپشن کا مضبوط کیس ہے، پی ٹی آئی چیئرمین کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر بھی سزا ملنی چاہیے۔
وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے سیرت سینٹرز کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ یہ منصوبہ مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت میں شروع کیا گیاتھا، میری والدہ کا خواب تھا کہ سیرت سنٹر میں نوجوانوں کیلئے اسلامی پیغام کو عام کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں صرف سیرت البنی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرکے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے، آج اگر ہمیں مشکلات کا سامنا ہے توا س کی بنیادی وجہ اسلام سے دوری ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہماری تعلیم میں اپنے ورثے کے بجائے مغربی انداز اپنانے کی دوڑ ہے، ہم نے اپنے مذہبی اثاثہ کو نوجوانوں تک نہیں پہنچایا، نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو ترجیح دی لیکن آج المیہ ہے کہ مسلمان تہذیبی لحاظ سے سب قوموں سے پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ امت مسلمہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے، آج سیرت النبی ۖ پر عمل کیا جائے تو یہ اندھیرے جلد چھٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کے ساتھ معاشرے میں برابری کے سلوک کا درس دیا ،جہالت کے رسم و رواج اسلام کے خلاف ہیں ،آج خواتین مردوں سے آگے ہیں ،نارووال میں چالیس سے ساٹھ فیصد تک لیپ ٹاپ لڑکیوں نے حاصل کئے۔











