سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس، گوادر پورٹ سے ریلوے کنٹینر یارڈ تک ریلوے ٹریک کے لیے بقیہ زمین کے حصول پر غور

37

اسلام آباد،6دسمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور کا اجلاس بدھ کویہاں چیئرپرسن کمیٹی  سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔   اجلاس  میں گوادر پورٹ سے ریلوے کنٹینر یارڈ تک ریلوے ٹریک کے لیے بقیہ زمین کے حصول پر غور کیا گیا ، مذکورہ منصوبے کی منظوری 2007 میں ایکنک  نے دی تھی۔

 حکام نے اجلاس کو بتایا کہ ریلوے نے اس منصوبے کے لیے درکار تقریباً 340 ایکڑ اراضی حاصل کرنا ہے۔  وزارت بقیہ زمین کے حصول کے لیے ضلعی انتظامیہ، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ اجلاس میں  ریلوے حکام نے ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے دوران ریلوے کی 5 ایکڑ اراضی کے مسئلے کو اجاگر کیا۔

  سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ریلوے ٹریک گوادر منصوبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے۔  کمیٹی نے وزارت کو سفارش کی ہے کہ وہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے اور 15 دن میں مسئلہ حل کرے۔ کمیٹی نے گوادر شپ یارڈ پراجیکٹ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

  سیکرٹری میری ٹائم افیئرز ڈاکٹر ارم انجم خان نے اجلاس کو  بتایا کہ وزارت دفاعی پیداوار  نے ابتدائی طور پر شپ یارڈ کے لیے کپر کے علاقے کو نشان زد کیا  تاہم 50 کلومیٹر دور اور سطح سمندر سے بلند ہونے کی وجہ سے وزارت دفاعی پیداوار  نے اکتوبر 2023 میں جگہ کو کپر سے سر بندر میں تبدیل کر دیا۔

 سینیٹر روبینہ خالد نے استفسار کیا کہ ان عوامل پر پہلے غور کیوں نہیں کیا گیا؟ کمیٹی نے معاملہ مزید غور کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کو بھجوا دیا۔ اجلاس کو کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی، فش آکشن ہال میں تبدیلی، بزنس پارک کے قیام اور کولڈ سٹوریج اور فریزنگ ٹنل کے قیام میں حائل رکاوٹوں پر بریفنگ دی گئی۔  حکام نے بتایا کہ پراجیکٹس کا نظرثانی شدہ پی سی ون ، سی ڈی ڈبلیو پی کو جمع کر دیا گیا ہے اور منظوری کا انتظار ہے۔  سینیٹر روبینہ خالد نے وزارت کو سفارش کی کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے نجی شعبے کی شراکت داری پر بھی غور کیا جائے۔  ان لینڈ واٹر ویز ٹرانسپورٹ سے متعلق سفارشات کے نفاذ کی صورتحال اور پاکستان مرچنٹ میرین شپنگ پالیسی اور پاکستان مرچنٹ شپنگ آرڈیننس میں ترمیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے حکام نے اجلاس کو  آگاہ کیا کہ ان لینڈ واٹر ویز ٹرانسپورٹ کے قیام کے آئیڈیا کی تمام اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے حمایت نہیں کی گئی ہے ۔ کچھ لوگ اسے وسائل کی بربادی قرار دیتے ہیں۔

 سینیٹر روبینہ خالد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال ہزاروں مرد و خواتین ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے ان آبی گزرگاہوں کے انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔  کمیٹی نے وزارت کو متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے کی ہدایت کی اور اس معاملے پر ایک جامع اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا  تاہم حکام نے  بتایا کہ کمیٹی نے پاکستان مرچنٹ میرین شپنگ پالیسی اور پاکستان مرچنٹ شپنگ آرڈیننس میں ترامیم کی تجویز پیش کی ہے اور اس کے مکمل ہونے پر کمیٹی کے سامنے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ مزید برآں کمیٹی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے گزشتہ دس سالوں میں جاری کردہ کارکردگی اور ٹینڈرز پر غور کیا۔

  حکام نے اجلاس کو  بتایا کہ کے پی ٹی نے جولائی 2013 سے جون 2023 تک گزشتہ دس سالوں میں سول ورکس کے لیے 12 اور پی اینڈ ڈی کے کاموں کے لیے 26 ٹینڈرز جاری کیے ہیں۔ پراجیکٹس کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے تاہم  مناسب بولی دہندگان کی عدم دستیابی پر باقی کام شروع نہیں کیے جا سکے۔

  اجلاس میں سینیٹر عابدہ محمد عظیم، سینیٹر دنیش کمار، سینیٹر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر دوست محمد خان، سینیٹر محمد اکرم، سیکرٹری بحری امور ڈاکٹر ارم انجم خان سمیت  متعلقہ محکموں کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔