معاون ٹیکنالوجیز تک عالمگیر رسائی یقینی بنانا ہو گی؛ بیگم ثمینہ علوی کا ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر تقریب سے خطاب

19

 

ڈیووس،17جنوری (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے عمر رسیدہ، معذوری اور غیر متعدی امراض میں مبتلا افراد کے لئے معاون ٹیکنالوجی تک عالمگیر رسائی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے عالمی رہنماوں پر زور دیا  ہے کہ وہ قومی منصوبوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کی حکمت عملیوں میں معاون ٹیکنالوجی کے انضمام کو ترجیح دیں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم 2024 کے موقع پر معاون ٹیکنالوجیز کے ذریعے پائیدار ترقیاتی اہداف کی جانب پیشرفت کے عنوان سے ایک تقریب میں اپنے کلیدی خطاب کے دوران کیا۔ “انلاک دی ایوری ڈے” معاون ٹیکنالوجی (اے ٹی) پر پہلی عالمی مہم ہے جو وہیل چیئر، عینکیں، سماعت کے آلات، مصنوعی اعضاء اور ڈیجیٹل آلات جیسی معاون ٹیکنالوجی کے بلا تفریق ہر کسی کے حق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لئے شروع کی گئی ہے۔

بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ معاون ٹیکنالوجی پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ یہ خصوصی ضروریات کے حامل افراد کے لئے تعلیم، روزگار اور معاشرے میں شمولیت کے مواقع کھول سکتی ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین، پالیسی سازوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون پر زور دیا۔

 انہوں نے عوامی اور نجی شعبوں پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو بااختیار بنانے والی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کریں۔ خاتون اول نے کہا کہ عالمی سطح پر 2.5 بلین افراد کو کم از کم ایک معاون پروڈکٹ کی ضرورت ہے جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ رسائی صرف 3 فیصد ہے۔ خاص طور پر کم آمدنی والے اور پسماندہ کمیونٹیز کے افراد کے لئے استعمال، دستیابی، اور رسائی کلیدی چیلنجز بنے ہوئے ہیں، ہمیں ان رکاوٹوں پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ معاون ٹیکنالوجی ان تک پہنچ جائے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اس ضمن میں کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہئے۔

 بیگم ثمینہ علوی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک جامع معاشرہ بنانے اور معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کو بڑھانے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے خطے میں اور عالمی سطح پر معاون ٹیکنالوجی کی وکالت کرنے میں سب سے آگے ہے۔

 انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان نے معاون ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے عالمی سطح پر اہم کوششیں کی ہیں جن میں علاقائی اور عالمی قراردادوں کی تجویز اور ان کو اپنانا، اہم تقریبات کی میزبانی، ڈبلیو ایچ او کی معاون مصنوعات کی فہرست کا اجرا، معاون ٹیکنالوجی کے لئے علاقائی سٹرٹیجک فریم ورک تیار کرنا اور معاون ٹیکنالوجی پر عالمی کانفرنس شامل ہیں۔

 بیگم ثمینہ علوی نے اس بات پر زور دیا کہ بہترین طریقوں، علم اور وسائل کو بانٹنے سے عالمی سطح پر اجتماعی اثر پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاون ٹیکنالوجی عالمی صحت کی کوریج میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صحت کی خدمات خصوصی افراد سمیت ہر کسی کے لئے قابل رسائی ہوں۔ انہوں نے معاون ٹیکنالوجی کی مسلسل جدت اور بہتری کو یقینی بنانے کے لئے تحقیق اور ترقی کو ترجیح دینے پر بھی زور دیا۔