لاہور، 23 جنوری( اے پی پی ): نگران صوبائی وزراءصحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹر جمال ناصر نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی میں پوسٹ ڈیوولوشن چیلنجز فار ہیلتھ کیئر سسٹم پر منعقدہ راؤنڈ ٹیبل مشاورت میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
اس موقع پر نگران صوبائی وزیر صحت بلوچستان ڈاکٹر عامر خان، ڈاکٹر فیصل سلطان، جنرل سیکرٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، ڈاکٹر سعد خالد، ڈاکٹر محمد عبداللہ، ایڈیشنل سیکرٹری سید معظم علی، سابق سیکرٹری صحت ڈاکٹر اعجاز منیر، سپیشل سیکرٹری آپریشنز محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر محمد اقبال اور مختلف ماہرین طب نے شرکت کی۔
ڈین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ڈاکٹر محمد نوید الٰہی نے ادارہ کی جانب سے سر انجام دی جانے والی خدمات پر روشنی ڈالی۔مقررین نے تقسیم کے بعد کی مدت (2010-2023) پر ایک ٹھوس گفتگو میں حصہ لیا۔گفتگو کے دوران مالی رکاوٹوں، عطیہ دہندگان پر انحصار، مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کی عدم موجودگی اور سیلاب اور کووڈ-19 کے چیلنجوں جیسے اہم چیلنجوں کی وضاحت کی گئی۔
نگران صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پاکستان کے صحت کے نظام میں بہتری لانے کیلئے وسیع پیمانے پر مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ پاکستان 2048 میں آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بننے جا رہا ہے۔پاکستان میں 49 سال کا ہر دوسرا شہری ذیابیطس کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزیز برڈن کے حوالہ سے پاکستان میں سات لاکھ ڈائیلاسز مشینیں درکار ہیں۔مجھے خدمت انسانیت کے عوض دہشتگردی کے مقدمات بھی بھگتنا پڑے۔ ایس او پیز کے مطابق ایک ڈاکٹر اور چار نرسوں کا سسٹم میں اضافہ ہونا چاہئے جسکا بالکل الٹ ہو رہا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ڈیوولوشن چیلنجز پر قابو پانے کیلئے ملک میں سیاسی بصیرت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ صحت کے شعبہ کی کامیابی کیلئے ہر حکومت کی مثبت پالیسیوں میں تسلسل ہونا لازم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی کی قیادت میں پرانی حکومتوں کے تمام ادھورے منصوبوں کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جا رہا ہے۔ ڈریپ ایک اٹونومس باڈی ہے جس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ہمیں نظام کی بہتری کیلئے فرائض اور ذمہ داریوں میں فرق کرنا ہوگا۔ہمارے ملک میں اینٹی نیٹل کیئر پر خاص توجہ دینی ہوگی۔