لاہور،26جنوری (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال کے افکار پر عمل پیرا ہونے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے،پاکستان کا قیام علامہ اقبال کے فکری اجتہاد کا نتیجہ ہے، حکومت قومی ورثہ کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات کر رہی ہے،اقبال اکادمی نوجوان نسل میں اقبال کے افکار کو فروغ دینے میں بخوبی کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو ایوان اقبال میں اقبال اکیڈمی آف پاکستان کے 60 ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے نوجوان قومی اثاثہ ہیں،علامہ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین کہہ کے مخاطب کیا،نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علامہ اقبال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں۔
اقبال اکیڈمی کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ امید ہے کہ گورننگ باڈی کے ممبران کی رہنمائی اور سفارشات اقبال اکادمی پاکستان کو نوجوان نسل میں اقبال کے کاموں اور پیغامات کو فروغ دینے کے اپنے مشن کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان عبدالرئوف رفیق نے اراکین کو اجلاس کی کارکردگی اور ایجنڈے کے بارے میں آگاہ کیا۔گورننگ باڈی نے کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے صوبائی دارالحکومتوں میں اقبال اکیڈمی کے دفاتر کے قیام کی فزیبلٹی بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس میں اقبال اکیڈمی کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ آن لائن سٹورز کے ذریعے اکیڈمی کی مصنوعات کی فروخت کو بڑھانے کے لیے جدید مارکیٹنگ ٹولز کو اپنائے۔گورننگ باڈی کے اراکین نے حال ہی میں انٹرنیشنل اقبال کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر اقبال اکیڈمی پاکستان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔اجلاس میں معروف سکالر، سابق ممبر گورننگ باڈی پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی وفات پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی اور علوم اقبال پر انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
بعد ازاں نگران وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ نے ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر اور ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی کے ہمراہ علامہ محمد اقبال کی پرانی رہائش گاہ 116-میکلوڈ روڈ لاہور کا دورہ کیا، جہاں علامہ اقبال نے طویل عرصہ قیام کیا۔ڈی جی محکمہ آثار قدیمہ اور میوزیم نے نگران وفاقی وزیر کو رہائش کے تحفظ کے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی۔
اس موقع پر گورننگ باڈی کے ممبران سینیٹر ولید اقبال پروفیسر ڈاکٹر ضیا الحق، ڈی جی آئی آر آئی سید شوکت امین شاہ، خزانچی ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، وی سی یونیورسٹی آف گوادر، نوید خالد، ڈی ایس این ایچ اینڈ سی ڈی، ڈاکٹر عبدالعظیم، ڈی جی آئی آر آئی۔ ڈوم، مسٹر صحبت علی تالپور، جے ایس، فنانس ڈویژن اور ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی پاکستان عبدالرئوف رفیقی بھی موجود تھے۔











