اسلام آباد،21فروری (اے پی پی):سابق سیکرٹری خارجہ اور انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد(آئی ایس ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل سہیل محمود نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک جامع اور ٹارگٹڈ نقطہ نظر ناگزیر ہے جس میں اقتصادی فریم ورک کے اندر ڈھانچہ جاتی ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے طویل مدتی ترقی کو مد نظر ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں ”پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے“کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سابق سیکرٹری وزارت خزانہ اور اقتصادی امور معین افضل نے خصوصی شرکت کی۔
سہیل محمود نے اپنے خطاب میں روس یوکرین تنازعہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں ان اہم اقتصادی چیلنجوں پر روشنی ڈالی جن کا پاکستان اس وقت سامنا کررہا ہے، جو اندرونی اور بیرونی دونوں عوامل سے فروغ پا رہے ہیں جن میں عالمی اقتصادی سست روی، کووڈ-19 کی وباء سمیت خوراک اور ایندھن کے بحران کے اثرات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دوہرے خسارے کے چیلنج سے نمٹ رہا ہے جس میں مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹس شامل ہیں جو بالآخر قرضوں کے جال کی طرف جاتا ہے۔ سہیل محمود نے اس بات پر زور دیا کہ ضروری اصلاحی اقدامات پر عمل درآمد بشمول سماجی شعبوں کی جانب وسائل کی ری ڈائریکشن، مالیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے رکاوٹ ہے جس کے نتیجے میں جی ڈی پی کی شرح نمو میں بھی کمی ہوئی ہے۔
قبل ازیں اپنے تعارفی کلمات میں ڈائریکٹر سینٹر فار سٹریٹجک پرسپیکٹیو ڈاکٹر نیلم نگار نے کہا کہ معیشت کو شدید معاشی عدم توازن کا سامنا ہے، ادائیگیوں کے توازن کے بحران، زرمبادلہ کی کمی اور سب سے بڑھ کر مالیاتی بے ضابطگی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ مالیاتی محرکات کے سلسلے کے باوجود بھی معیشت تیزی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معیشت کے بنیادی پہلوئوں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
سابق سیکرٹری وزارت خزانہ اور اقتصادی امور معین افضل نے اپنے خطاب میں پاکستانی معیشت کو درپیش حالیہ چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ملک کی معاشی پریشانیوں کی وجہ انسانی وسائل کی غلط تقسیم کو قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی بحرانوں پر قابو پانے کے لیے سخت اصلاحاتی عمل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سی پیک جیسی سرمایہ کاری کے ممکنہ فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں احتیاط سے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا استحکام پائیدار ترقی کے حصول پر منحصر ہے جس کے لیے کم از کم جی ڈی پی کی شرح نمو 5 فیصد کے قریب ہونا ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پر آئی ایس ایس آئی کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین سفیر خالد محمود نے تقریب کے شرکاءسے اظہار تشکرکیا۔











