اسلام آباد 23 جون (اے پی پی): رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے بجٹ میں کم سے کم اجرت میں اضافے اور بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافے جیسے اقدامات کر سراہا اور کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک سوشل پروٹیکشن وہیکل ہے اور دنیا بھر میں مہذب اقوام اپنے شہریوں کو سوشل پروٹیکشن فراہم کرتی ہیں اس پروگرام کے ذریعے بھی پاکستان کے غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے جو ریاست کا ایک اہم فریضہ ہے ۔
آج قومی اسمبلی میں مالی سال 2024-25کے وفاقی بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے دل کے امراض سے متعلق آلات پر ٹیکس میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس کرنے کی تجویز پیش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ آسان ہدف نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان لوگوں پر مزید ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں بلکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
انہوں نے سرگودھا اور سوات میں ہونے والے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں ان معاملات پر سیاسی پوائنٹس سکورنگ نہیں کرنی چاہیے۔ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے ساتھ ساتھ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی پامالی کی بھی مذمت کی۔











