پاکستان اور روس کے درمیان اجناس کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطحی ملاقات

20

اسلام آباد، 24 اپریل 2025 — پاکستان اور روس کے درمیان معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے مقصد کے تحت وفاقی وزیر تجارت، جام کمال خان نے 24 اپریل کو وزارت تجارت اسلام آباد میں روس کے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل مرکنٹائل ایکسچینج (SPIMEX) کے نائب صدر دمتری چرنیشیف اور ان کے وفد سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں دوطرفہ تجارتی میکانزم کو ادارہ جاتی تبادلوں کے ذریعے بہتر بنانے اور حقیقی اجناس کی تجارت کے نئے طریقہ کار تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر تجارت جام کمال خان نے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2023–24 میں دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 963 ملین امریکی ڈالر رہا، جس میں پاکستان کی برآمدات 83 ملین اور درآمدات 880 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ انہوں نے بینکاری کے نظام میں حائل رکاوٹوں کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

دمتری چرنیشیف نے SPIMEX کو روس کی اہم ترین اجناس کی ایکسچینج قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ پیٹرولیم مصنوعات، گیس، کھاد، اور لکڑی سمیت وسیع پیمانے پر اجناس کی تجارت کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے شفاف قیمتوں کے تعین اور مؤثر تجارتی نظام کے قیام کو SPIMEX کا مشن قرار دیا، اور عالمی اجناس ایکسچینجز کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک تشکیل دینے کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی۔

ملاقات میں SPIMEX اور پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج (PMEX) کے درمیان پہلے سے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کو فعال کرنے پر بھی بات چیت ہوئی، تاکہ تکنیکی تعاون، معلومات کا تبادلہ اور تجارتی پلیٹ فارمز کی ڈیجیٹل انضمام ممکن بنایا جا سکے۔

وزیر تجارت جام کمال خان نے دونوں ایکسچینجز کے درمیان علم و تجربے کے تبادلے کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ روس سے تیل، گندم، کھاد جبکہ پاکستان سے چاول، کپاس، پھل اور سبزیاں جیسے معیاری اور تبادلہ پذیر اجناس کی عملی تجارت کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

SPIMEX کے وفد کا دورہ 21 سے 25 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں وہ پاکستان میں تجارت، بینکاری اور لاجسٹکس کے شعبوں سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کریں گے، تاکہ بدلتے عالمی تجارتی منظرنامے میں دیرپا معاشی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔