وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق،قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر  قرارداد منظور

17

اسلام آباد،05مئی(اے پی پی):قومی اسمبلی نے پہلگام واقعہ کے بعد سندھ طاس معاہدہ کے خاتمے کے یکطرفہ اعلان اور پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کے حوالے سے بے بنیاد کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے مذمتی قرارداد کی متفقہ منظوری دے دی۔

 قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

قرارداد میں بھارت کی طرف سے دہشت گردی کے واقعہ کو بنیاد بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششوں کی مذمت کی گئی اور کہاگیاکہ اس واقعہ کو بھی بھارت کی طرف سے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے استمال کیاجارہا ہے۔

قرارداد میں کہاگیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کی پوری اہلیت رکھتا ہے اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحیت،بشمول آبی دہشت گردی اور فوجی اشتعال انگیزی کا فروری 2019 کی طرح منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے تمام مظاہر کی مذمت کرتا ہے اور معصوم شہریوں کا قتل پاکستان کی اقدار کے منافی ہے۔

ایوان نے گزشتہ ماہ کی بائیس تاریخ کو بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پہلگام حملے سے پاکستان کا تعلق جوڑنے کی تمام لغو اور بے بنیاد کوششوں کو مسترد کردیا ۔قرارداد میں پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے بھارتی شرانگیز مہم کی مذمت کی گئی جو سیاسی مقاصد کیلئے دہشت گردی کے مسئلے کو استعمال کررہا ہے۔قرارداد میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہاگیا کہ یہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے جو اعلان جنگ کے مترادف ہے ۔

ایوان نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کا سخت فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا ۔قرارداد میں مطالبہ کیاگیا کہ دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث ہونے اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کی سرزمین پردہشت گردوں کے ساتھ تعلق پر بھارت کا احتساب کیاجائے گا ۔