نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے دو ٹنل دوسال میں بحال ہوجائیں گے، وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو

18

اسلام آباد۔16مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہا ہے کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے دو ٹنل دوسال میں بحال ہوکر کام شروع کردیں گے۔بھارت کی جانب سے حالیہ جارحیت کے دوران اس منصوبے کو بھی نشانہ بنایاگیا جس کا بھارت سے جواب مانگا گیا ہے۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شگفتہ جمانی کے نیلم جہلم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کی بندش کے حوالے سے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر میاں معین وٹو نے کہا ہے کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کی دو ٹنلز کو 2024 میں نقصان پہنچا۔

وزیراعظم نے یہاں کا دورہ کیا انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے ان ٹنلز کے نقصان کے ذمہ داروں کے تعین اس کی وجوہات ت تلاش کرنا تھا،بعدازاں ایک اور ہائی پاور کمیٹی تشکیل دی گئی،فارن ماہر کی زیر نگرانی تکنیکی وجوہات کی تلاش کے لئے کمیٹی بھی بنائی گئی۔اب تک اس پہ مسلسل کام ہو رہا ہے،تحقیقات بھی ہورہی ہیں،ابتدائی رپورٹس تیار ہوگئی ہیں۔

دو سالوں میں اس کی بحالی ہو جائے گی اور یہ کام شروع کردے گا۔ملک عامر ڈوگر نے کہا کہ پتہ چلا اس منصوبے پر بھی بھارت نے حملہ کیا،اس سے کتنا نقصان ہوا،کیا ہم عالمی عدالت انصاف میں جا رہے ہیں؟سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاکہ ہمیں عالمی عدالت انصاف میں چلے جانا چاہئے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے اس کا جواب دیا جارہا ہے،اس کےمعاوضہ اور سدباب کے لئے پراپر فورم سے رجوع بھی کیا گیا ہے،اس سے جواب مانگا گیا ہے،اسے ہمارا موقف تسلیم کرنا پڑے گا۔بھارت سے پہلے سے بات چیت چل رہی تھی اس میں اس سے جواب مانگا گیا ہے۔

تمام متعلقہ فورمز پر یہ معاملہ اٹھائیں گے۔سندھ طاس معاہدے کی منسوخی کے بھارتی اعلان کا معاملہ بھی اٹھایا جارہا ہے۔ وہ ہمارے حصے کے پانی پر قبضہ نہیں کرسکتا۔

چوہدری ریاض کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے ٹنلز کو پہنچنے والے نقصان کی ہرممکنہ تحقیقات ہورہی ہیں۔آئندہ ایک ڈیڑھ ہفتے میں حتمی رپورٹس آجائیں گی۔