قومی اسمبلی کا اجلاس

17

اسلام آباد، 12(اے پی پی):قومی اسمبلی کا اجلاس عبدالقادر پٹیل کی زیر صدارت بروز بدھ پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بیرون ملک پاکستانی طلبہ کے لیے مزید وظائف کے حصول کے لیے مختلف ممالک سے بات چیت جاری ہے۔

 وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ حکومت نے پاکستان کے تعلیمی شعبے کے معیار، شمولیت اور بین الاقوامی حیثیت کو بڑھانے کے لیے متعدد غیر ملکی تعاون اور سٹریٹجک شراکت داری کو فعال طور پر آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ CPEC (سی پیک )کے تحت باہمی تعاون کے منصوبوں میں طلبہ اور اساتذہ کے تبادلے کے پروگرام، مشترکہ تحقیقی اقدامات، پاکستانی طلبہ کے لیے وظائف اور پاکستانی یونیورسٹیوں میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کا قیام شامل ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس سال جون کے بعد صوبوں کے تعاون سے ملک میں ایک مربوط تعلیمی نظام متعارف کرانے کی نئی کوشش کی جائے گی۔

 اپنے ریمارکس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی خان نے ایوان کو بتایا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے رواں سال جولائی تک نئی ٹیکسٹائل پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ویلیو ایڈڈ اشیاء کی برآمدات میں پینتیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ سعد وسیم شیخ نے کہا کہ ایف بی آر اپنی فیلڈ فارمیشنز کے ذریعے ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے ہندوستانی حمایت یافتہ پراکسیز کو شکست دینے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔   قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بلوچستان کے علاقے خضدار میں اسکول بس پر حملے کی شدید مذمت کی۔  انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس کے پیچھے جو بھی ملوث ہیں ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بزدلانہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ہمارے دشمن کو روایتی جنگ میں ہماری بہادر مسلح افواج کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی ایئربیس اور رافیل جیٹ طیاروں اور فتنہ الخوارج جیسی بھارتی پراکسیوں کو تباہ کیا جو ہماری طاقت اور عزم کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔  انہوں نے ہندوستانی حمایت یافتہ پراکسیوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

 سرمایہ کاری بورڈ کے وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ قوم کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بھارت دہشت گردی کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی میں ملوث ہے۔

 دیگر ارکان نے بھی خضدار میں سکول کے بچوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارت کی بزدلی کو ظاہر کرتا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ بھارتی کارروائیاں علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں اور عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔

 پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو میدان جنگ میں عبرتناک شکست دی اور اسے ہر محاذ پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب خضدار میں ہونے والے بزدلانہ حملوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔   انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حمایت یافتہ پراکسیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔  انہوں نے کہا کہ ملک کی سیکورٹی فورسز دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

 اپنے ریمارکس میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر خالد حسین مگسی نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کا امیج نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔  انہوں نے کہا کہ دنیا اب تسلیم کرتی ہے کہ پاکستانی قوم مضبوط اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایوان کا اجلاس اب کل گیارہ بجے ہوگا۔