ملتان،09 جولائی (اے پی پی ): کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں کی زیر صدارت اضلاع کی کارکردگی بارے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے انتظامیہ کارکردگی مانیٹرنگ،پبلک سروس کیلئے کے پی آئز متعارف کروائے۔ضلعی انتظامیہ، محکمے پرفارمنس انڈیکیٹرز کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں۔ نان روٹی کی مقررہ قیمتوں پر فراہمی،ذخیرہ اندوزوں گرانفروشوں کیخلاف سخت ایکشن کیا جائے۔
ستھرا پنجاب،انسداد تجاوزات حکومت پنجاب کے فلیگ شپ پروگرامز ہیں۔ ستھرا پنجاب کی کامیابی کیلئے اقدامات، کام نا کرنے والوں کا احتساب کیا جائے۔ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، مراکز صحت، ترقیاتی سکیموں کی مسلسل انسپکشن کی جائے۔ ہر شہری کی صحت کی سہولیات تک سہل رسائ پر وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا خصوصی فوکس ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز ہسپتالوں کا تفصیلی دورہ کریں۔ گٹروں کے ڈھکن کی عدم موجودگی کی وجہ سے کسی انسان جان کا نقصان ناقابل معافی ہے۔ مستقل و عارضی تجاوزات کے خاتمے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ ریونیو افسران مستقل تجاوزات کی نشاندھی کرکے اس کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں۔ کمشنر عامر کریم خاں نے غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری منظوری کے بغیر کسی کو تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔ تجاوزات،وال چاکنگ نے شہر کا حسن گہنا کر رکھ دیا ہے۔انسداد تجاوزات آپریشن بارے پبلک سے مکمل فیڈ بیک لیا جائے گا۔ملتان ڈویژن کے باسیوں کو واضح فرق نظر آنا چاہیے۔ شہریوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات تک سہل رسائ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ کمشنر عامر کریم خاں نے شہر کی سٹریٹ لائٹس فعال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سٹریٹ کرائم کے خاتمے کیلئے سٹریٹ لائٹس فعال کی جائیں۔ شہر کے داخلی خارجی راستوں کی صفائ، تزین و آرائش پر خصوصی فوکس کیا جائے۔موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد بغیر ہیلمٹ، لائسنس موٹر سائیکل سواری والے طلباء کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔
تعلیمی ادارے کھلتے ہی ون پلانٹ ون چائلڈ پر عملدرآمد کیا جائے۔ فی طالب علم ایک پودا فراہم کرکے نگہداشت کی ذمہداری بھی سونپی جائے۔ اضلاع میں پبلک ٹوائلٹس کی تعمیر، ریڑھی بازار، اہم شاہراہوں پر ٹریفک سگنلز انسٹال کرنے بارے بھی بریفننگ دی گئ۔ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے دیگر امور بارے بھی تفصیلی بریفننگ بھی دی گئ ۔ ایڈیشنل کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، متعلقہ محکموں کے افسران موجود تھے۔











