اسلام آباد، 25 جولائی )اے پی پی ): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال سے ورلڈ بینک کے نائب صدر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ عثمان ڈی اون نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ورلڈ بینک کے نائب صدر نے پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے احسن اقبال کی خدمات کو سراہا اور ترقیاتی اہداف کے حصول میں تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
ملاقات کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات پر مبنی ترقیاتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے اور وزارتِ منصوبہ بندی ورلڈ بینک کے ساتھ ماضی کی شراکت داری کو دوبارہ فعال دیکھنا چاہتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دنیا صنعتی معیشت سے ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو بھی اسی سمت میں پیش قدمی کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو اس معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائے۔ اُن کے بقول، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
معاشی اشاریوں کی بہتری کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ 130,000 پوائنٹس سے تجاوز کر گئی ہے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت فیصلے کیے گئے ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف برآمدات کو 32 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ ساتھ ہی بچوں کی نشوونما میں کمی کو قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے احسن اقبال نے حکومت کی جانب سے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے معیشت کی بہتری کے لیے ’فائیو ایز‘ پر مبنی حکمت عملی ترتیب دی ہے، جب کہ خواتین کے فعال کردار اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی شرح میں اضافے کو ترقی کے لیے کلیدی قرار دیا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ورلڈ بینک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مدد میں مزید مؤثر کردار ادا کرے گا، کیونکہ 2022 کے سیلاب جیسے واقعات نے ترقی پذیر ممالک کو شدید متاثر کیا ہے۔
یہ ملاقات پاکستان اور عالمی مالیاتی اداروں کے درمیان اعتماد اور اشتراکِ عمل کے ایک مثبت تسلسل کا مظہر قرار دی جا رہی ہے۔