اسلام آباد، 01 اگست (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مالی سال 2024ـ 25 کے دوران پاکستان کی تجارتی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی،جس کا مقصد موجودہ عالمی تجارتی حالات کے تناظر میں پاکستان کی برآمداتی حکمت عملی کا جائزہ لینا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنا تھا۔
عالمی تجارتی چیلنجز، جیسے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، مسابقتی قیمتوں کا دباؤ اور عالمی معاشی سست روی کے باوجود پاکستان کی برآمدات نے استحکام کا مظاہرہ کیا۔ مالی سال 2024ـ25 میں برآمدات کا حجم 31.75 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہے۔ اس بہتری کا بڑا سبب ویلیو ایڈیڈ مصنوعات اور غیر روایتی برآمداتی شعبوں کی غیر معمولی کارکردگی ہے۔
ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی، خاص طور پر سلے ہوئے اور بنے ہوئے ملبوسات میں بالترتیب 16 اور 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہوم ٹیکسٹائلز کی برآمدات میں بھی 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ تمباکو اور سگریٹس کی برآمدات میں 135 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ پلاسٹک مصنوعات، سیمنٹ، ادویات اور آئی سی ٹی خدمات کی برآمدات میں بھی مثبت پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے اس کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر روایتی برآمدات میں اضافہ پاکستان کی طویل المدتی تجارتی پالیسی کے لیے خوش آئند ہے۔ انہوں نے مخصوص برآمداتی منصوبوں کی تیاری، نئی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں پر توجہ مرکوز کرنے، اور تجارتی رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ الرٹ سسٹم کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نجی شعبے کی مشاورت سے سیکٹورل ایکسپورٹ کونسلز کو فعال بنایا جائے گا، اور مصنوعی ذہانت و ڈیٹا اینالٹکس کو بروئے کار لاتے ہوئے تجارتی انٹیلیجنس اور مارکیٹنگ کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ خدمات کی برآمدات، خاص طور پر آئی سی ٹی، فری لانسنگ اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔
وزیر تجارت نے اپنے اختتامی بیان میں کہا کہ پاکستان کا تجارتی شعبہ بدلتے عالمی حالات سے ہم آہنگ ہو رہا ہے، اور حکومت برآمدات کے فروغ، نئی منڈیوں تک رسائی اور دوطرفہ و کثیرالطرفہ تجارتی معاہدوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ تجارت ملکی معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے، اور وزارت اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔