ہیروز آف پاکستان: ثمینہ فاضل کی خواتین کو بااختیار بنانے کی لازوال داستان

13

اسلام آباد، 13 اگست (اے پی پی): اسلام آباد وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی بانی و صدر ثمینہ فاضل کی جدوجہد اور کامیابی خواتین کی معاشی خودمختاری کی ایک درخشاں مثال ہے۔ باہمت اور باصلاحیت ثمینہ فاضل نہ صرف فیشن ڈیزائنر رہیں بلکہ پاکستان کی پہلی خواتین ہاکی ٹیم کی رکن بھی تھیں۔

انہوں نے کم عمری میں ہی کاروباری سفر کا آغاز کیا اور فارغ وقت میں بچیوں کے لیے لباس تیار کرنا “میشا کلیکشن” کی بنیاد بنا۔ 1989 میں پہلی گارمنٹس فیکٹری قائم کی اور 1990 میں راولپنڈی و اسلام آباد کا پہلا خواتین بوتیک کھولا۔ بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کو گھر بیٹھے روزگار فراہم کیا اور مردوں کے برابر معاوضہ دیا۔

ثمینہ فاضل نے خواتین کے لیے الگ چیمبر کے قیام کی جدوجہد کی اور 2009 میں لائسنس حاصل کیا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے خواتین کو تربیت، کاروباری آگاہی اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی۔ پورے ملک میں نمائشوں کے انعقاد سے خواتین کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کے مواقع ملے جبکہ 2010 کے بعد خواتین کے وفود کو یورپ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں لے جایا گیا۔

چیمبر سے وابستہ خواتین آج پیٹرول پمپس، فارما کمپنیز اور ٹریول ایجنسیاں کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ دیہی خواتین کو براہِ راست نمائش میں مواقع دے کر مڈل مین کا کردار ختم کیا گیا۔ ملتان، سکھر اور دیگر شہروں میں سینکڑوں خواتین کو تربیت دے کر خود کفیل بنایا گیا۔

ثمینہ فاضل کا کہنا ہے کہ ان کا مشن خواتین کا کردار معاشی ترقی میں مزید مضبوط بنانا ہے اور پاکستان تب ہی ترقی کرے گا جب سب مل کر معیشت کو مستحکم کریں گے۔ ان کی خدمات خواتین کے بااختیار مستقبل کی تعمیر میں ہمیشہ ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔