وزارتِ منصوبہ بندی نے “اُڑان پاکستان” کے تحت قومی سطح پر پہلا مصنوعی ذہانت مقابلہ “اُڑان اے آئی ٹیکاتھون 1.0” لانچ کر دیا

28

اسلام آباد، 18 اگست )اے پی پی):وزارتِ منصوبہ بندی نے “اُڑان پاکستان” کے تحت قومی سطح پر پہلا مصنوعی ذہانت مقابلہ “اُڑان اے آئی ٹیکاتھون 1.0” لانچ کر دیا۔ افتتاحی تقریب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے خطاب کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکاتھون 1.0 پاکستان کی ڈیجیٹل تاریخ میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کے میدان میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دے گی۔

انہوں نے کہا کہ “مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں بلکہ حال ہے، جو صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور گورننس کے نظام کو تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج فیصلے معیشتوں میں نہیں بلکہ الگوردمز میں ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پاس دو راستے ہیں: یا اس انقلاب کا حصہ بنے یا دوسروں پر انحصار کرے۔”

احسن اقبال نے زور دیا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے انقلاب کا تماشائی نہیں بلکہ ابھرتا ہوا لیڈر بنے گا۔ ٹیکاتھون کے ذریعے نوجوانوں کو قومی ترقی میں شامل کیا جائے گا، جبکہ مقامی اسٹارٹ اپس، یونیورسٹیز اور ٹیکنالوجی پارکس کو حکومتی سطح پر مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں صحت، تعلیم، زراعت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم شعبوں میں جدید اے آئی حل لانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قومی اے آئی پالیسی، ٹاسک فورس، فنڈز اور سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کر رہی ہے تاکہ پاکستان عالمی معیار پر آگے بڑھ سکے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ “اڑان پاکستان” کا وژن 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت کی سمت لے جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے پانچ ستون ہیں، جن میں ای-پاکستان اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا شامل ہے۔ اے آئی کو نصاب میں شامل کیا جا رہا ہے اور ٹیکاتھون کے ذریعے قومی صلاحیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں وہی ولولہ ہے جو دنیا کے بڑے ٹیکنالوجی حبز کو طاقت دیتا ہے۔ اے آئی کی بدولت فصلوں میں بیماری کی پیشگوئی، صحت کے میدان میں ڈاکٹروں کی معاونت اور تعلیم ہر بچے تک پہنچانا ممکن ہے۔

احسن اقبال نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “آپ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ آگے بڑھیں، تجربہ کریں اور ثابت کریں کہ آپ دنیا میں کسی سے کم نہیں۔”