پا ک سعودی معاہدے سے دنیا میں امن ہو گا، گریٹر اسرائیل کا خواب زمین بوس ہوگیا،طاہر محمود اشرفی

15

لاہور، 21 ستمبر (اے پی پی): چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے دنیا میں امن ہو گا، پاک سعودی دفاعی معاہدہ کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا ،وزیر اعظم محمد شہباز شریف مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کو جنرل اسمبلی میں اجاگر کریں گے ،جہاد وہی تصور ہو گاجو قرآن و سنت کے تابع ہو گا، گریٹر اسرائیل کا خواب پاک سعودی اتحاد کے بعد زمین بوس ہوگیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز یہاںجامع مسجد توحید ماڈل ٹائون میں ” فلسطین کانفرنس و پاک سعودی دفاعی معاہدہ” پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ آج عالمی یوم امن ہے، پاک سعودی عرب معاہدہ پورے عالم میں امن کا ضامن بنے گا، حقیقی امن مسئلہ کشمیر و فلسطین کی آزادی کے بعد ملے گا،ارض حرمین شریفین کی حفاظت کا اعزاز پاکستان کو ملا ہے ہماری فوج سعودی فوج سے مل کر مملکت سعودی عرب و مملکت پاکستان کی حفاظت کرے گی،ہماری فوج کو یہ اعزاز کیوں ملا کیونکہ ہماری فوج کی بنیاد جہاد فی سبیل اللہ ہے، شہید یا غازی کی بنیاد پر ہی فوجی فوج میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مائوں کے دودھ نے فوج کے جوانوں کو جرات دی کہ اللہ سے ہی ڈرنا ہے، آج فلسطینیوں کی آواز پاکستان یا سعودی عرب ہی بنی ہے، فلسطین کیلئے امداد انہیں ہی دیں جن پر آپ کو یقین ہو کہ ان کے ذریعے امداد حقیقی لوگوں تک پہنچے گی،فوج قوم و حکومت الگ الگ فلسطینیوں کی مدد کررہی ہے۔طاہر اشرفی نے کہا کہ بائیس ستمبر بروز سوموار اقوام متحدہ میں اہم دن ہے جس میں وزیر اعظم محمد شہبازشریف ، وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شرکت اور امت مسلمہ کی نمائندگی کریں گے ،اس موقع پر وہ غزہ کے بحران پر عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدامات کا مطالبہ اور مسئلہ کشمیر و فلسطین کے مسائل کو جنرل اسمبلی میں اجاگر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے فلسطینی وفد کو جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کی اجازت نہیں دی،وہ ورچوئل خطاب کریں گے تو پھر طے ہوا کہ سعودی عرب کے ولی عہد بھی ورچوئل خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہبازشریف اور وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو جنرل اسمبلی میں فلسطینیوں کے حوالے سے موقف پیش کریں گے وہی پاکستانی قوم کا موقف ہوگا، پاک سعودی معاہدہ سے بھارت و اسرائیل کو تکلیف ہو ئی ہے ، ان کیساتھ کچھ اور لوگ بھی ہیں جو اس معاہدے سے پریشانی میں مبتلا ہیں،جس کی بڑی وجہ امت مسلمہ کا متحد و ایک ہونا ہے، یہ معاہدہ تو صرف دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے ہوا ہے۔طاہر اشرفی نے کہا کہ پاک فوج پر جو لوگ انگلیاں اٹھاتے ہیں، وہ بتائیں کہ جب بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا تو اس وقت وہ کہاں تھے ، اگر ہماری پا ک فوج نہ ہوتی تو یہ سکون سے کیسے بیٹھ سکتے تھے، اسرائیل لبنان اور شام پر جب چاہتا ہے بمباری کرتا ہے،کسی نے یہ سوچا تھا کہ اسرائیل قطر پر بھی حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس میں اسرائیل کے82 ڈرون حملہ شامل تھے تو ہمیں اندر و باہر سے مشورے آ رہے تھے،بھارتی حملہ پر وہ امریکہ جو خاموش تھا اور کہتا تھا کہ ہمارا اس جنگ سے کوئی لینا دینا نہیں پھر بھارت شرمندگی سے سیز فائر کیلئے امریکہ گیا،جب بھارت امریکہ کے سامنے سیز فائر کیلئے گیا تو امریکہ نے کہا پاکستان نے آپ کے چھ جہاز گرا دیئے جس سے بھارت کو دنیا میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک سوال کے جواب میں طاہر اشرفی نے کہا کہ اگر کوئی جہاد کرنا چاہتا ہے تو فوج میں جائے، جب ہم نے افغانستان میں جہاد کیا تھا تو اس میں حکومت کی مرضی شامل تھی ، بیگناہوں کا قتل جہاد نہیں فساد ہے، چرچز، مساجد ،امام بارگاہوں اور بازاروں میں دہشت گردی کرناکیا یہ جہاد ہے، جہاد اور فساد کے بارے میں اسلام نے واضح فرق بیان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان بھائیوں کیلئے پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں، اگر اس سرزمین سے پاکستان آ کرہمارے لوگوں کو کوئی شہید کرتا ہے تو کیا یہ جائز ہے، افغان ہمارے بھائی ہیں، پڑوسی کو اچھا سلوک کرنا چاہیے، کبھی کسی پاکستانی نے افغانستان جا کر کسی کا خون بہایا ہے تو دکھائو ،پیغام امن کمیٹی کا مقصد پیغام پاکستان کو عملی طور پر معاشرے میں لایا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ جہاد وہی کہلائے گا جو قرآن و سنت کے تابع ہوگا،پاک فوج کی اساس کلمہ طیبہ ہے، ہمیں مسلک کی زنجیریں توڑنا اور ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنا ہوگی تاکہ باہمی محبت کو پروان چڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے اسلامی و عرب ممالک پاکستانی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، سب سے پہلے گریٹر اسرائیل کا خواب پاک سعودی اتحاد کے بعد زمین بوس ہوگیا ہے، اہم ترین ممالک فلسطین کی آزاد ریاست کو تسلیم کررہے ہیں، قطر کے بعد دنیائے اسلام سوچ رہی ہے کہ ہم نے اپنے فیصلہ اب خود کرنے ہیں۔